Latest news

سلمان اکرم راجہ اور راجہ ناصر عباس کا سخت ردعمل: “کے پی میں گورنر راج کے باوجود پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رہے گا، حکومت ہار چکی ہے”

Spread the love

منصور احمد,October11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی احتجاج سمیت آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، کیونکہ احتجاج کرنا عوام کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔

اتوار کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لانگ مارچ آگے کیسے بڑھے گا اور خیبر پختونخوا میں مقامی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، اس بارے میں صوبائی قیادت بہتر طور پر آگاہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ان کا پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ کے مطابق لانگ مارچ کے اعلان میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی موجودہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی حکمت عملی اپنائے گی۔ تاہم انہوں نے مارچ کے آئندہ شیڈول، قیادت کی نقل و حرکت یا احتجاج کے طریقۂ کار سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

راجہ ناصر عباس کی حکومتی اقدام پر تنقید

دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے وفاقی حکومت کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے ملک میں امن قائم نہیں ہوگا۔ صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام کو کامیابی نہ سمجھے، کیونکہ ان کے بقول اس راستے سے پاکستان میں امن نہیں آئے گا۔

راجہ ناصر عباس نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران حکومتی کمیٹی نے شرط رکھی تھی کہ وزیراعظم سے ملاقات اسی صورت میں ممکن ہوگی جب لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔ ان کے مطابق اس شرط کے باوجود مارچ کو آئین اور قانون کے مطابق پرامن احتجاج قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہوا اور پشاور اور مردان تک پہنچا، تاہم ان کے بقول اس دوران امن و امان کی خلاف ورزی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے دہشت گردی سے متعلق خدشات کے حوالے سے اپنا بیانیہ تشکیل دیا اور پھر اسی بنیاد پر ایمرجنسی اور گورنر راج کا اقدام کیا۔

سیاسی کشیدگی اور آئندہ کا لائحہ عمل

پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی قیادت حکومتی اقدام کے خلاف سیاسی مزاحمت جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم لانگ مارچ کے اگلے مرحلے، اس کے مقام اور وقت کے بارے میں حتمی صورت حال واضح نہیں، جبکہ سلمان اکرم راجہ نے بھی کہا ہے کہ آئندہ پیش رفت کا انحصار مقامی حالات پر ہوگا۔

موجودہ صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات، احتجاج کے آئینی حق اور صوبے میں امن و امان سے متعلق معاملات سیاسی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں فریقین کے مؤقف اور زمینی صورت حال کی آزادانہ تصدیق اہم ہوگی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اس خبر میں سلمان اکرم راجہ اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بیانات اور الزامات کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مذاکرات کی شرائط، لانگ مارچ کے دوران امن و امان اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ متن سے ممکن نہیں۔

ماخذ: پی ٹی آئی میڈیا سیل، پارلیمانی رپورٹرز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔