
کاشف عباسی ,October11,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ صوبائی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کونسل کے ارکان نے اپنا تعارف کرایا اور اپنے متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ گورنر نے صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو نئی انتظامی حکمتِ عملی کی اہم ترجیحات قرار دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کونسل کے ارکان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا، اس لیے انہیں اپنے محکموں کے معاملات سمجھنے اور ذمہ داریوں سے واقف ہونے کے لیے ضروری وقت دیا جائے گا۔ ان کے مطابق متعلقہ شعبوں پر تفصیلی بریفنگ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ انتظامی امور کو تیزی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
گورنر نے واضح کیا کہ سرکاری امور میں تاخیر اور بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام کام مقررہ وقت میں مکمل کرنے اور کارکردگی کے ذریعے بہتری دکھانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، نئی انتظامیہ کو اپنی عملی کارکردگی سے سابقہ انتظامی طریقۂ کار سے واضح فرق دکھانا ہوگا۔
ایپکس کمیٹی کا اجلاس، دہشت گردی کے خاتمے پر مشاورت
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ پیر کو ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بہتری سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشاورتی کونسل کی پہلی ترجیح صوبے میں امن بحال کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے دوسرے صوبوں کے کامیاب تجربات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
گورنر کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن قائم ہونے سے سیاحت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے صوبے کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن و استحکام ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
عوام کو تحفظ اور پائیدار امن فراہم کرنے کا عزم
عوام کے نام پیغام میں گورنر نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے پیش نظر آئینی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ان کی توجہ سیاسی الزام تراشی کے بجائے امن، تحفظ اور استحکام کی بحالی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دے چکے ہیں اور اب انہیں پائیدار امن فراہم کرنا ضروری ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے دہشت گردی، اس کی حمایت کرنے والی سوچ اور قانون کی عملداری کو کمزور کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون عوام دہشت گردی کا سبب نہیں بلکہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کی ترجیح عوام کو خوف سے آزاد ماحول فراہم کرنا ہے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے پر زور
گورنر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کامیابی کا اندازہ بیانات سے نہیں بلکہ عوامی خدمت اور عملی نتائج سے لگایا جائے گا۔ مشاورتی کونسل صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دے گی تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل میں کمی لائی جا سکے۔ گورنر نے کونسل کے ارکان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ ضرورت کے وقت ان کے لیے دستیاب رہیں گے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر گورنر فیصل کریم کنڈی سے منسوب اجلاس اور عوامی پیغام کے فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس، مشاورتی کونسل کی ترجیحات اور پولیس و سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے سے متعلق اقدامات کی تفصیلات اور عملی پیش رفت کے لیے متعلقہ سرکاری اعلانات اہم ہوں گے۔
ماخذ: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے منسوب بیان، فراہم کردہ متن