Latest news

لکی مروت میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے لیے قافلوں کی آمد، گنڈی چوک سیاسی سرگرمیوں کا مرکز

Spread the love

منصور احمد,October04,2026

لکی مروت (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کے آغاز کے ساتھ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کا گنڈی چوک سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ مختلف جنوبی اضلاع سے پی ٹی آئی کارکنوں کے قافلے گنڈی چوک پہنچ رہے ہیں، جبکہ مارچ کے لیے دیگر علاقوں سے بھی کارکنوں کی آمد جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے شروع ہوگا۔ ان کے اعلان کے مطابق ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے قافلے مارچ میں شامل ہوں گے۔ اس مرحلے کے بعد قافلے کو کرک، کوہاٹ، پشاور اور چارسدہ کے راستے آگے بڑھنا ہے، جبکہ 8 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلوں کے خیرآباد میں جمع ہونے کا پروگرام ہے۔

دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر میں ہفتے کی شب دفعہ 144 نافذ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کارکن مارچ میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں سے روانہ ہوئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان اپر کے علاقے مکین سے روانہ ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کے قافلے کو دو سڑک کے مقام پر روکنے کی کوشش کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ مقامی اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے، جس کے نتیجے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

پولیس حکام نے واقعے کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کے دوران شرکاء سے پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق بعض شرکاء نے پولیس بیریئرز پر حملہ کیا، جس کے بعد صورتحال پر قابو پانے اور پولیس اہلکاروں و سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے آنسو گیس اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال کیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ کارروائی کا مقصد احتجاج کو دبانا نہیں بلکہ امن و امان برقرار رکھنا تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے قافلے کی قیادت سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کر رہے ہیں۔ روانگی سے قبل انہوں نے شرکاء پرامن رہنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق مارچ عمران خان کے ساتھ سیاسی عہد کی تجدید اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے تسلسل کا اظہار ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف علاقوں سے قافلوں کی روانگی کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں بعض مقامات پر راستوں میں رکاوٹیں نظر آتی ہیں۔ تاہم ان ویڈیوز میں دکھائی دینے والے تمام مقامات اور واقعات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق دستیاب معلومات کی بنیاد پر نہیں ہو سکی۔

خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی مذاکرات میں بھی لانگ مارچ اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال اہم موضوعات رہے، تاہم مذاکرات میں مکمل اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے مارچ کا پروگرام برقرار رکھا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
لکی مروت میں قافلوں کی آمد، لانگ مارچ کے شیڈول اور مختلف اضلاع سے کارکنوں کی شرکت سے متعلق معلومات حالیہ رپورٹس اور پی ٹی آئی کے اعلان پر مبنی ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں آنسو گیس اور زخمی ہونے کا معاملہ مقامی اطلاعات اور پولیس کے مؤقف دونوں کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ واقعے کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہو سکی، اس لیے اسے حتمی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ موصولہ اطلاعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: پی ٹی آئی/سہیل آفریدی کی ایکس پوسٹ، مقامی پولیس حکام