Latest news

قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان، ایران کے حملوں کا 90 فیصد سے زائد حصہ روکنے کا دعویٰ

Spread the love

محمود احمد, October19,2026

دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء

قطر نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کے پیشِ نظر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری بڑھانے پر زور دیا ہے۔ قطر کے نائب وزیرِاعظم شیخ سعود نے کہا ہے کہ دوحہ علاقائی تعاون کو اہمیت دیتا ہے اور حال ہی میں اپنی دفاعی ضروریات کا جائزہ لیا ہے، جس میں فضائی دفاع، ڈرون حملوں کی روک تھام اور سمندری تحفظ کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔

پیر کو دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطری نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ خطے میں بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی تیاریوں اور مشترکہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق قطر نے اپنی دفاعی ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جو ملک اور خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہیں۔

ان شعبوں میں فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا، بغیر پائلٹ ڈرونز سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنا اور آبی گزرگاہوں و سمندری تنصیبات کی حفاظت شامل ہے۔ ان ترجیحات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اپنی دفاعی منصوبہ بندی میں فضائی اور سمندری خطرات دونوں کو اہمیت دے رہا ہے۔

ایرانی حملوں کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ روکنے کا دعویٰ

قطری نائب وزیرِاعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران 90 فیصد سے زیادہ حملوں کو مشترکہ مہارت اور کئی دہائیوں پر محیط فوجی سرمایہ کاری کے ذریعے روک دیا گیا۔ ان کے مطابق دفاعی نظاموں اور مختلف سطحوں پر تعاون نے حملوں کے اثرات محدود کرنے میں کردار ادا کیا۔

تاہم یہ اعداد و شمار قطری عہدیدار کے بیان پر مبنی ہیں اور دستیاب معلومات میں ان کی آزادانہ تصدیق یا تفصیلی وضاحت موجود نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اس شرح میں میزائل حملوں، ڈرونز یا دیگر نوعیت کے حملوں کو کس طرح شمار کیا گیا۔

دفاعی ماہرین کے لیے کسی ملک کی فضائی دفاعی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت حملوں کی مجموعی تعداد، استعمال ہونے والے ہتھیاروں، دفاعی نظاموں کی صلاحیت اور شہری و فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان جیسے عوامل اہم ہوتے ہیں۔ قطر کی جانب سے دفاعی تیاریوں اور مشترکہ مہارت کا ذکر اسی تناظر میں سامنے آیا ہے۔

خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پر زور

شیخ سعود نے کہا کہ قطر خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوحہ علاقائی سکیورٹی کے معاملات میں انفرادی دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ مشترکہ تعاون کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے فضائی دفاع، ڈرون حملوں کی روک تھام اور سمندری راستوں کا تحفظ اہم معاملات ہیں۔ خطے میں توانائی کی تنصیبات، بندرگاہوں اور تجارتی گزرگاہوں کی موجودگی کے باعث کسی بھی بڑے سکیورٹی واقعے کے اثرات معیشت اور عالمی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔

قطر نے حالیہ دفاعی جائزے میں جن شعبوں کو ترجیح دی ہے، ان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے اپنی تیاریوں کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم نائب وزیرِاعظم کے بیان میں کسی نئے دفاعی معاہدے، اس میں شامل ممالک یا عملی اقدامات کے آغاز کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایران کے ساتھ تعلقات اور راس لفان حملے پر گفتگو

قطری نائب وزیرِاعظم نے ایران کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حملے شروع ہونے سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پر مبنی تعلقات موجود تھے۔ ان کے مطابق گزشتہ جون تک قطر اور ایران کے درمیان کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

قطر کی راس لفان گیس تنصیب پر ایران کے حملے کے بارے میں سوال کے جواب میں شیخ سعود نے کہا کہ دوحہ اس واقعے پر حیران تھا۔ ان کے مطابق حملے کے بعد تہران کے ساتھ بات چیت کی گئی۔

راس لفان قطر کی توانائی کی صنعت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، اس لیے وہاں کسی حملے یا سکیورٹی خطرے کے ممکنہ اثرات قطر کی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم دستیاب بیان میں حملے سے ہونے والے نقصان، اس کی مکمل نوعیت یا اس کے بعد کیے گئے مخصوص اقدامات کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

شیخ سعود نے کہا کہ اختلافات کے باوجود قطر ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطے برقرار رکھتا ہے۔ ان کے مطابق دوحہ رابطے منقطع کرنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دونوں فریق ایک مشترکہ مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں۔

اختلافات کے باوجود سفارتی رابطے جاری رکھنے کا مؤقف

قطری نائب وزیرِاعظم کے بیان میں ایک طرف دفاعی تیاریوں اور علاقائی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر دفاعی تحفظ کو بہتر بنانے کے ساتھ سفارتی رابطوں کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

علاقائی کشیدگی کے دوران ممالک کے لیے یہ ایک اہم چیلنج ہوتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے اقدامات اور سفارتی رابطوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتے ہیں۔ قطر کے بیان کے مطابق اختلافات کے باوجود ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

تاہم مشترکہ مفاہمت کی تفصیلات، اس کے تحت طے پانے والے معاملات اور مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے کیے جانے والے اقدامات واضح نہیں کیے گئے۔ اس لیے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان تمام اختلافات کے خاتمے کے بجائے رابطے جاری رکھنے کے مؤقف کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: قطر کے نائب وزیرِاعظم نے دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، خلیجی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ ایران کے حملوں کا 90 فیصد سے زائد حصہ روکنے کا عدد قطری عہدیدار کا دعویٰ ہے، جس کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ نئی دفاعی شراکت داری کے عملی خدوخال اور ایران کے ساتھ مبینہ مشترکہ مفاہمت کی تفصیلات بھی سامنے آنا باقی ہیں۔

ماخذ: قطر کے نائب وزیرِاعظم کا گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب، قطری سرکاری بیان، الجزیرہ