Latest news

حوثیوں کا دعویٰ: 24 گھنٹوں میں یمن پر سعودی طیاروں کے 110 فضائی اور میزائل حملے، 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی

Spread the love

محمود احمد, October18,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء

یمن کی حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں میں 110 فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ حوثی ترجمان کے مطابق حملوں میں دارالحکومت صنعاء کے علاوہ الحدیدہ، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الجوف، الضالع اور مأرب کے علاقے بھی نشانہ بنے۔ سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ حملوں کا دائرہ یمن کے متعدد علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی الگ الگ تعداد، متاثرہ شہری تنصیبات یا ہر مقام پر ہونے والے نقصان کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ حوثی ترجمان کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی سامنے نہیں آئی، اس لیے ہلاکتوں اور حملوں کی تعداد سے متعلق معلومات کو حوثی تحریک کے بیان کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے اب تک یمن پر سعودی فضائی اور میزائل حملوں کی مجموعی تعداد 2,652 ہو چکی ہے۔ تاہم اس مجموعی تعداد کی تصدیق کے لیے کوئی آزاد شواہد یا تفصیلی رپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔

یمن کے متعدد علاقوں میں حملوں کا دعویٰ

حوثی ترجمان کے بیان میں جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں صنعاء، الحدیدہ، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الجوف، الضالع اور مأرب شامل ہیں۔ یہ علاقے یمن کے مختلف جغرافیائی حصوں میں واقع ہیں اور ملک میں جاری تنازع کے دوران متعدد مرتبہ فوجی سرگرمیوں اور سکیورٹی صورتِ حال کے حوالے سے خبروں میں آتے رہے ہیں۔

حوثی تحریک کا دعویٰ ہے کہ حالیہ حملوں میں شہری آبادی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اگر شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے تو متاثرہ خاندانوں کو طبی امداد، محفوظ رہائش اور دیگر بنیادی سہولتوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم فی الحال متاثرہ افراد کی شناخت، ان کے علاقوں اور نقصان کی نوعیت سے متعلق مکمل معلومات دستیاب نہیں۔

فضائی حملوں سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے مقامی حکام، طبی مراکز اور دیگر قابلِ اعتماد ذرائع سے معلومات حاصل کرنا اہم ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر سعودی حکام کا ردعمل سامنے نہ آنے کے باعث حملوں کی نوعیت اور ان کے نتائج کے بارے میں تصویر مکمل نہیں ہو سکی۔

سعودی عرب کے شہر ابہا کے لیے ہنگامی انتباہ

دوسری جانب سعودی عرب کے محکمہ سول ڈیفنس نے بتایا ہے کہ قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم نے جنوب مغربی صوبہ عسیر کے دارالحکومت ابہا کے لیے ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری کیا تھا۔ محکمے کے مطابق کچھ ہی دیر بعد اعلان کیا گیا کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں۔ اس کے ساتھ غیر ضروری طور پر ہجوم جمع کرنے اور ویڈیوز بنانے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

سعودی حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ ابہا کے لیے جاری کیے گئے انتباہ کی نوعیت کیا تھی، خطرے کا ممکنہ ذریعہ کون سا تھا یا الرٹ کس مخصوص واقعے کے پیشِ نظر جاری کیا گیا تھا۔ اسی طرح خطرہ ٹلنے کے اعلان کے بعد کسی نقصان یا جانی و مالی خسارے کی اطلاع بھی فراہم نہیں کی گئی۔

ابہا سعودی عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع اہم شہر ہے۔ ممکنہ خطرے کے انتباہات کے دوران شہریوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

علاقائی کشیدگی اور شہریوں کی سلامتی

یمن میں فضائی حملوں کے دعوے اور سعودی شہر ابہا کے لیے جاری ہونے والا انتباہ ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں سکیورٹی صورتِ حال پر توجہ مرکوز ہے۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ابہا کے انتباہ اور یمن میں بیان کردہ حملوں کے درمیان براہِ راست تعلق موجود ہے۔

علاقائی کشیدگی کے دوران شہریوں کی حفاظت، درست معلومات کی فراہمی اور ہنگامی اداروں کی ہدایات پر عمل درآمد خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یمن میں شہری آبادی کے متاثر ہونے کے دعوؤں کی تصدیق اور سعودی عرب میں انتباہ کی نوعیت واضح ہونا صورتِ حال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

حوثی ترجمان کے بیان اور سعودی سول ڈیفنس کی اطلاع میں دو الگ پیش رفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک جانب یمن میں حملوں اور جانی نقصان کے دعوے ہیں، جبکہ دوسری جانب ابہا کے لیے جاری کیے گئے خطرے کے انتباہ کو بعد میں ختم کرنے کا اعلان ہے۔ دونوں معاملات پر مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے سے واقعات کے پس منظر اور اثرات کے بارے میں زیادہ واضح معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یمن میں 110 حملوں، 30 سے زائد افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے اور مجموعی طور پر 2,652 حملوں کے اعداد و شمار حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ ابہا کے لیے ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری ہونے اور بعد میں خطرہ ٹلنے کی اطلاع سعودی سول ڈیفنس سے منسوب ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ماخذ: حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا بیان، سعودی محکمہ سول ڈیفنس، سعودی قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم