Latest news

ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر دوبارہ حملہ، مسافر ہال میں آگ لگنے کی اطلاع

Spread the love
King Khalid International Airport (KKIA) – Riyadh’s Premier Global Gateway

محمود احمد, October11,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتحاد کے مطابق ایک نامعلوم پروجیکٹائل ایئرپورٹ کے مسافر ہال نمبر 4 سے ٹکرایا، جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ متعلقہ حکام آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔

اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق واقعے میں ایئرپورٹ کے مسافر ہال نمبر 4 کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ممکنہ جانی نقصان، زخمیوں کی تعداد یا ایئرپورٹ کی پروازوں پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ایئرپورٹ کے قریب کروز میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

اتحاد کے ترجمان نے ایک الگ بیان میں کہا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو تباہ کر دیا۔ دونوں واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق، میزائل کے منبع یا حملے کے ذمہ دار فریق کے بارے میں فراہم کردہ بیان میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔

ایئرپورٹ جیسے اہم شہری اور سفری مرکز پر حملے کی اطلاع کے بعد آگ پر قابو پانے، مسافروں اور عملے کی حفاظت اور فضائی آپریشنز کی صورت حال اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں یا ان میں کوئی تبدیلی کی گئی۔

سعودی اتحاد کا پس منظر

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد 2015 میں یمن کی جنگ کے دوران تشکیل دیا گیا تھا۔ اس وقت متعدد عرب ممالک نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں حوثی تحریک کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے اور کروز میزائل کو تباہ کرنے سے متعلق اطلاعات خطے میں سکیورٹی کی صورت حال کے حوالے سے اہم ہیں۔ تاہم حملے کی ذمہ داری، اس کے ممکنہ محرکات اور نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے آنے تک کسی نتیجے پر پہنچنے سے گریز ضروری ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حملے، آگ لگنے اور کروز میزائل تباہ کیے جانے کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ تصاویر نمائندہ نوعیت کی ہیں اور انہیں اس مخصوص واقعے کی مستند تصاویر نہ سمجھا جائے۔

ماخذ: سعودی عسکری اتحاد میڈیا سیل، ریاض نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز ریاض/اسلام آباد۔