Latest news

پاکستان میں ای ایس جی کا مستقبل قابلِ پیمائش کارکردگی اور شفاف اعداد و شمار سے جڑا ہونا چاہیے: شیری رحمان

Spread the love

منصور احمد,October05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور پر مبنی ای ایس جی نظام کا مستقبل محض رپورٹنگ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قابلِ پیمائش کارکردگی، شفاف اعداد و شمار اور عملی نتائج سے منسلک کرنا ضروری ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان ای ایس جی پالیسی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ ای ایس جی کے معاملے کو صرف ماحولیات تک محدود رکھنے کے بجائے سیاست، قانون، معیشت اور کاروباری شعبے کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ای ایس جی سے متعلق آگاہی موجود ہے، تاہم پالیسیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے نمایاں خلا موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً 537 لسٹڈ کمپنیوں میں سے بہت کم ادارے قابلِ اعتماد ماحولیاتی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف 18 فیصد کمپنیوں کے بورڈز میں ای ایس جی امور سے متعلق تربیت یافتہ ڈائریکٹرز موجود ہیں، جبکہ صرف 11 فیصد کاروباری ادارے پائیداری سے متعلق رپورٹس جاری کر رہے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ پائیداری رپورٹس میں محض اعداد و شمار شامل کرنا کافی نہیں بلکہ ان میں زمینی صورتحال بھی واضح ہونی چاہیے۔ انہوں نے آزادانہ تصدیق اور مؤثر نگرانی کا نظام بنانے، کمپنیوں کو پائیداری کے لیے مراعات دینے اور خلاف ورزیوں پر متوازن جرمانوں کا نظام وضع کرنے پر زور دیا۔

ان کے مطابق لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ای ایس جی رپورٹنگ کو مرحلہ وار لازمی بنانے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ یکم جولائی 2029 سے 25 ارب روپے سے زائد کاروبار، ایک ہزار سے زیادہ ملازمین یا 12.5 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی کمپنیوں پر رپورٹنگ کا اطلاق ہوگا، جبکہ یکم جولائی 2030 سے اس دائرے میں مزید کمپنیوں کو شامل کیا جائے گا۔ یکم جولائی 2031 سے باقی لسٹڈ کمپنیوں اور عوامی مفاد کی غیر لسٹڈ کمپنیوں کے لیے بھی رپورٹنگ لازمی ہونے کی بات کی گئی ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پائیداری کے لیے صرف جرمانوں پر انحصار مؤثر حکمت عملی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق نجی شعبے پر پہلے ہی مالی بوجھ موجود ہے، اس لیے نئی ماحولیاتی پالیسیوں میں مراعات، واضح طریقہ کار اور کاروباری شعبے کی شمولیت کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے پاکستان گرین ٹیکسانومی کو کاروباری اداروں اور مختلف شعبوں کے لیے پائیداری کی مشترکہ زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی ماحولیاتی ضوابط اور یورپی یونین کے کاربن بارڈر نظام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

شیری رحمان نے صاف ٹیکنالوجی، اخراج میں کمی، توانائی کی بچت اور بہتر فضلہ انتظام کے لیے سرمایہ کاری اور مراعات بڑھانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی قوانین کی پابندی اگر صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہی تو زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔

سولر توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان میں 50 گیگاواٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 18 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ ان کے مطابق سولر توانائی کے تیزی سے بڑھتے استعمال کو قومی توانائی منصوبہ بندی سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے، جس میں گرڈ، بیٹری اسٹوریج، تقسیم شدہ توانائی اور توانائی کی طلب کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ نے سولر توانائی کے فروغ میں کردار ادا کیا، تاہم اب اسے پائیدار اور منصفانہ انداز میں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو صاف توانائی، توانائی خودکفالت اور ماحولیاتی لچک کے واضح اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ای ایس جی سے مراد ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی عوامل ہیں جنہیں کاروباری اداروں کی کارکردگی اور پائیداری جانچنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ شیری رحمان کی جانب سے کمپنیوں، سولر درآمدات اور آئندہ رپورٹنگ کے مراحل سے متعلق اعداد و شمار اور تجاویز ان کی تقریب سے خطاب میں بیان کردہ مؤقف کے مطابق پیش کی گئی ہیں۔

ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)، پاکستان ای ایس جی پالیسی رپورٹ کی تقریب