

محمود احمد, September 19,2026
میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء
میکسیکو کی ریاست موریلوس میں یونیورسٹی آف گریناڈا سے تعلیمی تبادلے کے پروگرام کے تحت آنے والی 21 سالہ ہسپانوی طالبہ کلاڈیا تاکورونتے ایگوئیلرا کے بزدلانہ قتل کے بعد یونیورسٹی آف موریلوس (UAEM) میں طلبہ کا شدید احتجاج پھوٹ پڑا ہے۔ طلبہ نے تعزیتی اجتماعات اور مظاہرے کرتے ہوئے انتظامیہ اور حکومت سے خواتین بالخصوص طالبات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ تعلیم حاصل کرنا کسی کے لیے موت کی سزا نہیں ہونا چاہیے۔
کلاڈیا کواؤتلا کی میونسپلٹی میں دواؤں اور نباتات کے ایک میلے میں شرکت کے بعد واپس جا رہی تھیں کہ 12 ستمبر کی شب ان پر چاقو سے حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔ سکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز اور تحقیقات کے بعد پولیس نے واقعے کو نسوانی قتل (فیمیسائڈ) کا کیس قرار دیا۔ 17 ستمبر کو موریلوس کے حکام نے پیش رفت کرتے ہوئے فرانسسکو خاویر “این” نامی مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا، جس نے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ اسپین کے وزیر خارجہ اور یونیورسٹی آف گریناڈا نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مکمل انصاف کا مطالبہ کیا، جبکہ ہسپانوی یونیورسٹی نے موریلوس کے لیے تمام آئندہ تعلیمی تبادلے کے پروگرام فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں۔
میکسیکو میں کلاڈیا کا یہ قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یونیورسٹی آف موریلوس میں طالبات کی سکیورٹی پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ گزشتہ سات ماہ کے مختصر عرصے میں کلاڈیا سے قبل کمبرلی راموس، کارول تولیڈو اور مشیل ایتزیانا فوینتس کے قتل کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں، جس نے یونیورسٹی اور تعلیمی حلقوں میں خوف اور شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ کلاڈیا کے والد بھی بیٹی کی قانونی کارروائیوں کے لیے میکسیکو پہنچ چکے ہیں، جبکہ اس واقعے نے ملک بھر میں غیر ملکی طلبہ اور خواتین کے تحفظ کی بحث کو ایک بار پھر سرگرم کر دیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ رپورٹ میکسیکو اور اسپین کے باضابطہ حکومتی بیانات، یونیورسٹی آف موریلوس کی طلبہ تنظیموں اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی تصدیق شدہ اطلاعات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
ماخذ: بین الاقوامی اور کرائم ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز میکسیکو سٹی / اسلام آباد۔