ایران کا جزیرہ لارک پر حملے کے بعد شدید ردِعمل: امریکی و اسرائیلی اقدامات کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دینے کا عزم

محمود احمد, August 31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی پارلیمان کی اہم اور سٹریٹجک ‘قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی’ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سٹریٹجک جزیرہ لارک پر ہونے والے حالیہ حملے پر انتہائی سخت اور تند و تیز ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جارحانہ کارروائی کا تہران کی جانب سے حتمی اور لازمی جواب دیا جائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں طاقتور لہجہ اپناتے ہوئے لکھا کہ “ہماری دفاعی قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے” کی دشمنوں کی کوئی بھی نئی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں اور معاشی و جیو پولیٹیکل نقصان کی قیمت کو مزید شدید اور بھاری کر دے گی۔ انہوں نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اس جارحیت کا انتہائی “تباہ کن، تکلیف دہ اور عبرت ناک سبق آموز” جواب فراہم کرے گا۔

ایرانی رہنما کی جانب سے یہ سخت بیانات ایک ایسے کشیدہ وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے خلیجِ فارس میں واقع جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں اپنے متعدد عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حملے کے منصوبہ سازوں اور حملہ آوروں کے خلاف فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔