سفیر عاصم افتخار احمد کا سعودی عرب کی دفاعی خود مختاری کی کامل حمایت کا اعادہ؛ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی فوری رہائی اور سیاسی تصفیے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن اور خطے میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سلامتی کونسل کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے مملکتِ سعودی عرب کے مختلف شہروں بالخصوص ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی گروپ کی جانب سے شہری آبادی اور معاشی اہداف پر کیے گئے فضائی و میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کی جانب سے یمن کی تازہ ترین صورتحال پر دی گئی تفصیلی بریفنگ کو سراہا اور اجلاس میں مملکتِ سعودی عرب اور یمن کے معزز مستقل نمائندگان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سرحدوں اور معاشی تنصیبات پر حوثیوں کے یہ غیر قانونی اقدامات سعودی عرب کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس سے یمن کے تنازع کو پرامن اور پائیدار سفارتی راستے سے حل کرنے کی تمام تر جاری کوششوں کو شدید ترین دھچکا پہنچ رہا ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیراعظم پاکستان کے جامع موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس نوعیت کے تمام بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی جانب سے برادر ملک سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، سیکیورٹی اور پائیدار خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنے علاقے، شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کسی بھی بیرونی عسکری خطرے کے مقابلے میں اپنے تمام قومی اثاثوں کا دفاع کرنے کے جائز اور قانونی حق کی مکمل تائید کرتا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ یمن کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ مختلف محاذوں پر جاری عسکری کارروائیوں میں اضافہ، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے پیہم حملے، سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر بمباری اور یمن کے اندر بگڑتا ہوا انسانی بحران عالمی برادری کے لیے گہرے تحفظات کا باعث ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ان پیش رفت کے پورے خطے پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے مزید تباہی کو روکنے کے لیے سفارت کاری کو فوراً متحرک کرنا ہوگا تاکہ 2022ء سے برقرار قائم شدہ نسبتاً پرسکون صورتحال کو دوبارہ بکھرنے سے بچایا جا سکے۔

پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع، یمنی قیادت میں اور یمنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کو بحال کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ یمن میں سنگین انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر انسانی امداد اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

اس موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے عملے، انسانی امدادی کارکنوں اور سفارتی اہلکاروں کو حوثیوں کی جانب سے من مانے طریقے سے حراست میں رکھنے کے عمل کی بھی شدید مذمت کی اور ان تمام افراد کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اپنے خطاب کے اختتام پر سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے یکجا ہو کر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور پرامن سیاسی تصفیے کے لیے متحد رہنے کا مطالبہ کیا۔

سلامتی کونسل: تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 پر عمل درآمد کے لیے مؤثر میکانزم کی ضرورت ہے؛ سفیر عاصم افتخار احمد

محمود احمد, JULY 23,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے لیے تنازعات کا پرامن حل اور بروقت سفارت کاری ہی واحد اور مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قرارداد 2788 کے جذبے کے تحت اقوامِ متحدہ کے منشور پر اس کے حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جامع سفارشات اور قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ منشور کا آرٹیکل 33 اور 34 تنازعات کے حل کے لیے مکمل راستہ فراہم کرتے ہیں، تاہم اصل کمی ان طریقوں کے بروقت، غیر جانبدارانہ اور مستقل استعمال کے فقدان میں ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق پرامن حل میں مضمر ہے۔

انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ثالثی اور سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کاوشوں سے فریقین کے درمیان رابطے بحال ہوئے اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ طے پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کو مزید مضبوط عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں عمل درآمد کے لیے 8 اہم عملی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں کشیدگی کے ابتدائی آثار پر فوراً متحرک ہونا، قراردادوں پر عمل درآمد کا باقاعدہ فالو اَپ نظام قائم کرنا، آرٹیکل 34 کے تحت غیر جانبدارانہ حقائق کی جانچ، باب ششم کے لیے عملی گائیڈ کی تیاری، سیکریٹری جنرل کے گُڈ آفسز کی مالی و سیاسی حمایت، عالمی عدالتِ انصاف کا استعمال، علاقائی تنظیموں سے تعاون اور سلامتی کونسل کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ شامل ہیں۔

پاکستان کا شام میں شامی قیادت میں عبوری انصاف اور قومی مفاہمت کی حمایت کا اعادہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان نے شام میں عبوری انصاف کے لیے شامی قیادت اور شامی ملکیت پر مبنی عمل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ملکیت، مفاہمت اور جامع ادارے ہی شام میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی اصل بنیاد ہیں۔

شام میں عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے شامی حکومت کی جانب سے عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق قومی کمیشنوں کے قیام اور عبوری انصاف سے متعلق مجوزہ قانون کی تیاری جیسے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ شامی قومی اداروں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، شامی قیادت میں جاری کوششوں کا مددگار ہونا چاہیے، جبکہ شام کی خودمختاری اور قومی ملکیت کا مکمل احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری انصاف قومی مفاہمت کے فروغ، باہمی اعتماد کی بحالی، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی جائز توقعات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت اور عوام کی دیرپا امن، استحکام، قومی مفاہمت اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں بھرپور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔