سلامتی کونسل: تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 پر عمل درآمد کے لیے مؤثر میکانزم کی ضرورت ہے؛ سفیر عاصم افتخار احمد

محمود احمد, JULY 23,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے لیے تنازعات کا پرامن حل اور بروقت سفارت کاری ہی واحد اور مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قرارداد 2788 کے جذبے کے تحت اقوامِ متحدہ کے منشور پر اس کے حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جامع سفارشات اور قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ منشور کا آرٹیکل 33 اور 34 تنازعات کے حل کے لیے مکمل راستہ فراہم کرتے ہیں، تاہم اصل کمی ان طریقوں کے بروقت، غیر جانبدارانہ اور مستقل استعمال کے فقدان میں ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق پرامن حل میں مضمر ہے۔

انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ثالثی اور سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کاوشوں سے فریقین کے درمیان رابطے بحال ہوئے اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ طے پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کو مزید مضبوط عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں عمل درآمد کے لیے 8 اہم عملی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں کشیدگی کے ابتدائی آثار پر فوراً متحرک ہونا، قراردادوں پر عمل درآمد کا باقاعدہ فالو اَپ نظام قائم کرنا، آرٹیکل 34 کے تحت غیر جانبدارانہ حقائق کی جانچ، باب ششم کے لیے عملی گائیڈ کی تیاری، سیکریٹری جنرل کے گُڈ آفسز کی مالی و سیاسی حمایت، عالمی عدالتِ انصاف کا استعمال، علاقائی تنظیموں سے تعاون اور سلامتی کونسل کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ شامل ہیں۔

پاکستان کا شام میں شامی قیادت میں عبوری انصاف اور قومی مفاہمت کی حمایت کا اعادہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان نے شام میں عبوری انصاف کے لیے شامی قیادت اور شامی ملکیت پر مبنی عمل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ملکیت، مفاہمت اور جامع ادارے ہی شام میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی اصل بنیاد ہیں۔

شام میں عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے شامی حکومت کی جانب سے عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق قومی کمیشنوں کے قیام اور عبوری انصاف سے متعلق مجوزہ قانون کی تیاری جیسے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ شامی قومی اداروں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، شامی قیادت میں جاری کوششوں کا مددگار ہونا چاہیے، جبکہ شام کی خودمختاری اور قومی ملکیت کا مکمل احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری انصاف قومی مفاہمت کے فروغ، باہمی اعتماد کی بحالی، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی جائز توقعات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت اور عوام کی دیرپا امن، استحکام، قومی مفاہمت اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں بھرپور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔