عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی مساوی رسائی ناگزیر ہے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا خطاب

محمود احمد, September 02,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اور عاجلانہ اصلاحات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک بدستور نا قابلِ برداشت اور کمر توڑ غیر ملکی قرضوں کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے سربراہ نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عالمی مالیاتی و معاشی ڈھانچے میں فوری اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو مفلوج کرنے والے ان بوجھل قرضوں کے سنگین مسئلے کا ایک پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انتونیو گوتریش نے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں پر زور دیا کہ وہ غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی معاشی ترقی کی کوششوں اور مالی معاونت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا، مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اقوام متحدہ کے اپنے ڈھانچے اور ‘بریٹن ووڈز’ نظام سمیت تمام بین الاقوامی کثیرالجہتی اداروں میں انقلابی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں تاکہ ان اداروں کو آج کی جدید اور تلخ عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور بین الاقوامی فیصلے سازی میں ترقی پذیر ممالک کی متناسب نمائندگی اور اثر و رسوخ میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے خطرات و فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے فوائد صرف چند امیر یا ٹیکنالوجی میں پیش رفتہ ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ اسے دنیا کے تمام ممالک اور ان کے شہریوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور محفوظ حفاظتی ضوابط اور زیادہ جامع طرزِ حکمرانی کا طریقہ کار تشکیل دینا بے حد ضروری ہے۔

امریکہ اور ایران میں عسکری کشیدگی پر اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش: انتونیو گوتریش کا فریقین سے شدید ترین تحمل کا مطالبہ

محمود احمد, September 01,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی شدید عسکری کشیدگی پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفین دوجارک نے نیویارک میں ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر ہونے والی فوجی کارروائیوں اور حملوں میں ناخوشگوار اضافہ انتہائی افسوسناک اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔

ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر تمام متعلقہ فریقین سے شدید ترین تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری ٹکراؤ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، اسی لیے وہ تمام سفارتی سرگرمیوں اور دوطرفہ یا کثیرالجہتی مذاکرات کی فوری بحالی کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف باہمی گفتگو اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ایک ایسا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں مکمل استحکام، عدم تشدد اور تمام فریقوں کے مابین اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔