انسانی ہمدردی کا عالمی دن: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحق خاندانوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر گامزن ہے، سینیٹر روبینہ خالد

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسانیت کی خدمت، دکھی انسانوں کا سہارا بننا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہم سب کی مشترکہ اخلاقی و قومی ذمہ داری ہے۔ بی آئی ایس پی حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک بھر کے مستحق خاندانوں کو مکمل سماجی تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر پوری طرح گامزن ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف ایک جذبہ یا ہمدردی کے چند الفاظ نہیں بلکہ معاشرے کے تمام کمزور، محروم اور مستحق طبقات کی عملی مدد کرنے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ملک کے لاکھوں مستحق اور غریب خاندانوں کو باقاعدہ مالی معاونت فراہم کر کے انہیں شدید معاشی مشکلات اور غربت سے نکالنے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کے محروم اور کمزور طبقوں کو مشکل حالات میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انسانی ہمدردی کا عالمی دن ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ہم دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں اور ضرورت مندوں کا ہاتھ تھامیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ آئیں آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے اردگرد موجود تمام ضرورت مند افراد کی مدد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں گے۔

انسانی ہمدردی کے عالمی دن پر دنیا بھر کے امدادی کارکنان کو خراجِ تحسین: وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا اہم پیغام

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ سخت، مشکل اور انتہائی خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارکنان کی خدمات بلا شبہ قابلِ تحسین ہیں، جو دنیا بھر میں انسانیت، باہمی ہمدردی اور بے لوث خدمت کی روشن ترین مثال قائم کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف کسی آفت کے وقت فوری امدادی سامان کی فراہمی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ متاثرین کے وقار، مکمل تحفظ اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کا بنیادی تقاضا بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور دیگر نادیدہ بحرانوں کے دوران متاثرہ افراد، بالخصوص خواتین، بچوں، معذور افراد اور دیگر معاشی یا سماجی طور پر کمزور طبقات کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہنگامی اور ہنگامی نوعیت کے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کو بلا کسی امتیاز کے مکمل تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے پیغام میں ریاستی اداروں، سول سوسائٹی کے تنظیموں، طبی عملے اور ہر سطح کے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں کوئی بھی انسان بے یارومددگار نہ رہے، یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے انسانی حقوق، احترامِ انسانیت اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مؤثر انسانی ہمدردی کے نظام میں محض فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی مکمل بحالی، انہیں عدل و انصاف اور تمام بنیادی زندگی کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی عالمی سطح پر آپسی تعاون اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے اور پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں تمام ضرورت مند انسانوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔