ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکیہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے: صدر رجب طیب اردوان

محمود احمد, August 18,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرانے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر اہم گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران صدر رجب طیب اردوان نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں میں ترکیہ کی مکمل حمایت اور تعاون فراہم کرنے کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ پہلے بھی علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے اور اب بھی دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے سہولت کار بن سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات انتہائی سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور ایرانی حکومتوں کے مختلف اداروں کے درمیان سفارتی رابطے پہلے سے زیادہ مضبوط اور فعال ہیں، تاہم تاحال دونوں فریقین کسی حتمی اتفاقِ رائے یا باہمی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

انقرہ: پاکستانی سفارت خانے میں یومِ استحصالِ کشمیر کی پُرتقار تقریب، مسئلہ کشمیر کے قانونی و انسانی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی

منصور احمد, August 05,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

انقرہ میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی اور وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور بین الاقوامی قوانین پر اس کے اثرات کا احاطہ کیا گیا۔

پاکستان کے انقرہ میں قائم سفارتخانے اور ترکیہ کے معروف ادارے ‘اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ سینٹر’ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی اس تقریب میں ترک سول سوسائٹی کے نمائندوں، ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے قونصلر عمار امین نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غاصبانہ اقدامات کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی پاسداری اور آزادیٔ اظہار کے احترام پر زور دیا۔

اس موقع پر ڈپٹی ہیڈ آف مشن شائق احمد بھٹو نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ترک رہنما اور ای ایس اے ایم کے صدر مصطفیٰ کایا نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین 21ویں صدی کے اہم ترین حل طلب انسانی اور سیاسی مسائل ہیں۔ تقریب کے تمام مقررین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حقِ خودارادیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔