انقرہ: پاکستانی سفارت خانے میں یومِ استحصالِ کشمیر کی پُرتقار تقریب، مسئلہ کشمیر کے قانونی و انسانی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی

منصور احمد, August 05,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

انقرہ میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی اور وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور بین الاقوامی قوانین پر اس کے اثرات کا احاطہ کیا گیا۔

پاکستان کے انقرہ میں قائم سفارتخانے اور ترکیہ کے معروف ادارے ‘اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ سینٹر’ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی اس تقریب میں ترک سول سوسائٹی کے نمائندوں، ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے قونصلر عمار امین نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غاصبانہ اقدامات کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی پاسداری اور آزادیٔ اظہار کے احترام پر زور دیا۔

اس موقع پر ڈپٹی ہیڈ آف مشن شائق احمد بھٹو نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ترک رہنما اور ای ایس اے ایم کے صدر مصطفیٰ کایا نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین 21ویں صدی کے اہم ترین حل طلب انسانی اور سیاسی مسائل ہیں۔ تقریب کے تمام مقررین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حقِ خودارادیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا دورۂ ترکیہ: ‘ٹراسا’ اور ‘اسیلسن’ کا دورہ، ریلوے کی جدید کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق

منصور احمد, August 01,2026

انقرہ/ترکیہ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے ترکیہ کے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوسرے روز ترکیہ کی معروف ریلوے مینوفیکچرنگ کمپنی ‘ٹراسا’ اور عالمی شہرت یافتہ دفاعی و ہائی ٹیکنالوجی کمپنی ‘اسیلسن’ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے کی جامع جدید کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ریلوے نظام کے فروغ پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اہم اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ جدید ریلوے ٹیکنالوجی، مسافر کوچز، ریلوے انجن، الیکٹرک اور ڈیزل ملٹی پل یونٹس فریٹ ویگنز، جدید پیداواری نظام، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے مختلف شعبوں کا بچشمِ خود معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ترک نائب وزیر ٹرانسپورٹ عثمان بویراز، ٹراسا کے ڈائریکٹر جنرل سلیم کوچبائے، ٹی سی ڈی ڈی تاشیماجیلک کے ڈائریکٹر جنرل اوفوک یالچن، ڈپٹی گورنر ساکاریا اور اسیلسن کے اعلیٰ حکام نے پاکستانی وفد کو ترکیہ کے جدید ریلوے آپریشنز، سگنلنگ، مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

مذاکرات کے دوران پاکستان ریلوے، ٹراسا اور اسیلسن کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ مینوفیکچرنگ، رولنگ اسٹاک کی جدید کاری، جدید سگنلنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، خودکار ٹرین کنٹرول ، سائبر سکیورٹی اور ذہین ریلوے نظام میں آئندہ کے لیے وسیع تعاون کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں، کیرج فیکٹری اسلام آباد اور پاکستان ریلوے کی دیگر مرکزی ورکشاپس کو جدید ترک ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور مقامی سطح پر ریلوے آلات کی تیاری کے امکانات پر بھی فریقین کے مابین کامل اتفاقِ رائے پایا گیا۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی مکمل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، جدید ٹریفک مینجمنٹ، فائبر آپٹک مواصلاتی نظام اور محفوظ ریلوے آپریشنز موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایم ایل-1 (ML-1)، ایم ایل-3 (ML-3) اور اہم ترین ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ فریٹ کوریڈور کی کامیابی کے لیے جدید ریلوے ٹیکنالوجی کو اپنانا نہایت ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے سگنلنگ اور مواصلاتی نظام کی بدولت علاقائی روابط اور فریٹ آپریشنز مزید مستحکم اور منافع بخش ہوں گے۔