پاکستان ریلوے نے نظام کو جدید تر بنانے کے لیے اپنے اہم ترین انفراسٹرکچر کی ڈیجیٹلائزیشن کا ایک بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کے 10 ویٹ اِن موشن پلوں کو ڈیجیٹلائز کر کے پاکستان ریلوے آپریشنل اینڈ مینجمنٹ انٹیگریٹڈ سروسز ایکوسسٹم (پرومِس) کے مرکزی ڈیش بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس اہم منصوبے پر عمل درآمد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی ویٹ اِن موشن پلوں کی کمپیوٹرائزیشن اور عمل درآمد کی صورتحال سے متعلق دی گئی سفارشات کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ اس جدید مربوط نظام کے عملی طور پر فعال ہونے کے بعد ریلوے حکام کو ریئل ٹائم یعنی حقیقی وقت میں مانیٹرنگ، تیز رفتار رپورٹنگ اور دقیق اعداد و شمار کی بنیاد پر اہم ترین آپریشنل فیصلے کرنے کی مکمل سہولت اور صلاحیت میسر آئے گی۔
منصوبے کی پیش رفت سے متعلق دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ آزمائشی بنیادوں پر پہلے ہی ایک ویٹ اِن موشن پل کو کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹلائز کر کے پرومِس ڈیش بورڈ کے ساتھ جوڑا جا چکا ہے، جس کا آپریشنل ڈیٹا کامیابی کے ساتھ لائیو اور ریئل ٹائم میں ڈیش بورڈ پر موصول اور ظاہر ہو رہا ہے۔ اس پہلے کامیاب تجربے نے ریلوے کے بنیادی ڈیجیٹل فریم ورک کی توثیق کر دی ہے اور باقی نو پلوں پر اس ٹیکنالوجی کی تنصیب کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔ اس وقت باقی تمام نو نامزد ویٹ اِن موشن پلوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کی حتمی مقررہ تاریخ 15 ستمبر 2026ء طے کی گئی ہے۔ مقررہ وقت پر کام مکمل ہونے سے تمام ویٹ اِن موشن پل مرکزی پلیٹ فارم سے منسلک ہو جائیں گے جس سے ریلوے میں شفافیت، حادثات کی روک تھام اور مرکزی سطح پر نگرانی کا ایک جدید باب شروع ہو گا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ملک کے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس سیکیورٹی کے پیشِ نظر بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن بھی مکمل طور پر معطل رہی۔ کوئٹہ میں پاکستان ریلوے کے ایک نمائندے اور ذمہ دار اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتِ حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ریلوے انتظامیہ نے منگل کے روز سے ٹرین آپریشنز کو دو دنوں کے لیے معطل کرنے کا ہنگامی فیصلہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق نواب اکبر خان بگٹی کی برسی کے موقع پر کوئٹہ شہر سمیت صوبہ بلوچستان کے مختلف اور حساس اضلاع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے دوران بھی سیکیورٹی خدشات اور خطرات کی وجہ سے کوئٹہ کی اہم ترین اور مقبول جعفر ایکسپریس کی سروس کو دو سے تین مرتبہ عارضی طور پر معطل کیا جا چکا ہے۔ جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور تک روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی واحد اور مرکزی ٹرین ہے جو سندھ اور پنجاب کے درجنوں بڑے اور چھوٹے شہروں سے گزرتی ہوئی پشاور پہنچتی ہے، جس کے باعث یہ غریب، کم آمدنی والے طبقے، مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سستے اور آسان سفر کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اچانک اور مسلسل ٹرین سروس کی معطلی کے باعث کوئٹہ ریلوے اسٹیشن اور ارد گرد کے علاقوں میں مسافروں اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی، خواری اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں جاری جامع اصلاحات اور سخت انتظامی اقدامات کے نتیجے میں ادارے کی مالی کارکردگی میں تاریخی اور نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے باعث گزشتہ مالی سال کے دوران ریلوے کی مجموعی سالانہ آمدن 88 ارب روپے سے نمایاں طور پر بڑھ کر 115 ارب روپے کی حد تک پہنچ چکی ہے جبکہ مال گاڑیوں کی فریٹ آمدن میں بھی 28 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملتان میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اور بعد ازاں ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کے دورے کے موقع پر انہوں نے بتایا کہ جب ڈیڑھ سال قبل پاکستان ریلوے کی باقاعدہ ذمہ داری سنبھالی گئی تو ادارے میں متعدد انتظامی و مالی خامیاں موجود تھیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے گئے۔ انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ریلوے کی آمدن میں 27 ارب روپے کے ریکارڈ اضافے کی سٹیٹ بینک اور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے بھی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے نے اراضی کی لیز اور ٹرینوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق اہم پالیسیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر ریلوے کی قیمتی اراضی اور دیگر جائیدادوں کو مکمل شفافیت اور اوپن آکشن کے ذریعے لیز پر دینے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اس نئی پالیسی کے نتیجے میں ریلوے کی اراضی سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن 8 ارب روپے سے دوگنی ہو کر 16 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ عرصے میں مجموعی آمدن میں مزید 50 سے 60 ارب روپے کے اضافے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طویل عرصے سے لوکوموٹیوز اور کوچز کی دیکھ بھال میں عدم توجہی کے باعث مسائل پیدا ہوئے تھے لیکن اب مرحلہ وار بنیادوں پر ٹرینوں کے ایئر کنڈیشننگ سسٹم اور کوچز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ عوام ایکسپریس، شالیمار ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، بزنس ٹرین اور سکھر ایکسپریس کی کوچز کی بہتری کے بعد اب تیزگام، پاکستان ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس کی اپ گریڈیشن پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلوے آپریشنز کو جدید بنانے کے سخت ڈیڈ لائنز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 15 ستمبر کے بعد اپ گریڈ کی گئی کسی بھی ہائی پروفائل ٹرین کے ریک میں پرانی کوچز کو شامل کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی ایسی آمیزش قبول کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے میں بجلی اور ایئر کنڈیشننگ کے نظام کو ہموار بنانے کے لیے 30 ستمبر تک بیڑے میں 30 نويں پاور وینز شامل کر دی جائیں گی، جبکہ 31 دسمبر تک مزید 16 اور 23 مارچ تک باقی 40 پاور وینز کی خریداری و شمولیت کا عمل مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ملک میں پاور وینز کی کمی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 31 دسمبر تک تمام ڈمی ویگنز کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور 15 ستمبر تک روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی فریٹ ٹرینوں کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 اور پھر دسمبر تک 15 تک پہنچایا جائے گا۔
ملکی بنیادی ڈھانچے اور میگا ریل منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ 70 سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ریلوے ٹریکس پر موجود 177 خطرناک مقامات کو ختم کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کی بہتری کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے 10 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں اور ایک ارب روپے کی پہلی قسط جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روہڑی کراچی ریلوے ٹریک کی مکمل اپ گریڈیشن کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت ٹریک کی بہتری کے بعد کراچی اور روہڑی کے درمیان ٹرینوں کا سفری دورانیہ تقریباً 5 گھنٹے کم ہو جائے گا۔ اس اہم منصوبے کا سنگِ بنیاد جنوری کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں رکھا جائے گا جبکہ موجودہ حکومت کی مدت کے اختتام تک اس منصوبے کا 50 سے 60 فیصد کام مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ تھرکول کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے 105 کلومیٹر طویل نیا ٹریک بچھانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کی مکمل کے بعد مقامی کوئلے کی ترسیل سے پاکستان کو سالانہ 2 ارب ڈالر کے مبادلہ کی بچت ہوگی۔
پریس کانفرنس کے بعد وفاقی وزیرِ ریلوے نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے پلیٹ فارمز، پولیس ہیلپ لائن ڈیسک اور مسافر سہولت مراکز کا معائنہ کیا اور شہریوں سے راست گفتگو کر کے سہولیات سے متعلق ان کے خدشات اور آراء معلوم کیں۔ انہوں نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن پر جدید کنٹرول روم کا باقاعدہ افتتاح کیا اور ریلوے آپریشنز کی نگرانی کے لیے قائم ڈیجیٹل ڈیش بورڈز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی اور ٹیکسلا کے تاریخی ریلوے سائٹس کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور میں شاہدرہ سے رائیونڈ تک 41 ریلوے پارکس بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گارڈز اور ڈرائیورز کے رننگ رومز کی بہتری اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی چھتوں و سیوریج کا کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ عملے کو بھی بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے فرنٹ لائن سٹاف، بالخصوص گارڈز اور لوکو پائلٹس کے لیے ایک اور اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ راولپنڈی کے بعد اب خانیوال میں بھی ریلوے گارڈز اور ڈرائیورز کے لیے جدید ترین سہولیات سے آراستہ “رننگ رومز” کی جامع اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
ترجمان ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے کی 79 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اپنے بنیادی فیلڈ سٹاف کے لیے اتنی وسیع اور جدید سطح پر ورکنگ کنڈیشنز اور رہائشی سہولیات میں بہتری لائی گئی ہے۔ خانیوال میں اپ گریڈ کیے گئے ان نئے رننگ رومز کا باضابطہ افتتاح 22 اگست کو کیا جائے گا۔
وزارتِ ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر محکمے کے فرنٹ لائن ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے محنتی اور جفاکش ملازمین کو بہترین، آرام دہ اور باوقار ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی تناؤ کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے ترکیہ کے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوسرے روز ترکیہ کی معروف ریلوے مینوفیکچرنگ کمپنی ‘ٹراسا’ اور عالمی شہرت یافتہ دفاعی و ہائی ٹیکنالوجی کمپنی ‘اسیلسن’ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے کی جامع جدید کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ریلوے نظام کے فروغ پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اہم اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارتِ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ جدید ریلوے ٹیکنالوجی، مسافر کوچز، ریلوے انجن، الیکٹرک اور ڈیزل ملٹی پل یونٹس فریٹ ویگنز، جدید پیداواری نظام، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے مختلف شعبوں کا بچشمِ خود معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ترک نائب وزیر ٹرانسپورٹ عثمان بویراز، ٹراسا کے ڈائریکٹر جنرل سلیم کوچبائے، ٹی سی ڈی ڈی تاشیماجیلک کے ڈائریکٹر جنرل اوفوک یالچن، ڈپٹی گورنر ساکاریا اور اسیلسن کے اعلیٰ حکام نے پاکستانی وفد کو ترکیہ کے جدید ریلوے آپریشنز، سگنلنگ، مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
مذاکرات کے دوران پاکستان ریلوے، ٹراسا اور اسیلسن کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ مینوفیکچرنگ، رولنگ اسٹاک کی جدید کاری، جدید سگنلنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، خودکار ٹرین کنٹرول ، سائبر سکیورٹی اور ذہین ریلوے نظام میں آئندہ کے لیے وسیع تعاون کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں، کیرج فیکٹری اسلام آباد اور پاکستان ریلوے کی دیگر مرکزی ورکشاپس کو جدید ترک ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور مقامی سطح پر ریلوے آلات کی تیاری کے امکانات پر بھی فریقین کے مابین کامل اتفاقِ رائے پایا گیا۔
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی مکمل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، جدید ٹریفک مینجمنٹ، فائبر آپٹک مواصلاتی نظام اور محفوظ ریلوے آپریشنز موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایم ایل-1 (ML-1)، ایم ایل-3 (ML-3) اور اہم ترین ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ فریٹ کوریڈور کی کامیابی کے لیے جدید ریلوے ٹیکنالوجی کو اپنانا نہایت ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے سگنلنگ اور مواصلاتی نظام کی بدولت علاقائی روابط اور فریٹ آپریشنز مزید مستحکم اور منافع بخش ہوں گے۔