ایران کا خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کا بڑا اعلان: امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف عسکری حکمتِ عملی تبدیل

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر میجر جنرل محسن رضائی نے خلیج فارس میں ایک بڑا عسکری و معاشی قدم اٹھاتے ہوئے سمندری ‘ممنوعہ زون’ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے جدید اور موثر میزائل تجربات کے ذریعے واضح اور دوٹوک پیغام پہنچایا جا چکا ہے، جس کے بعد تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور خطے میں قائم امریکی عسکری اڈوں کے خلاف اپنی تمام تر آپریشنل حکمتِ عملی اور پوزیشن کو بنیادی طور پر یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک خاص اور اہم بیان میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مسلط کردہ معاشی جنگ اور بحری ناکہ بندی کا موثر جواب دینے کے لیے ایران خلیج فارس کے حساس پانیوں میں ایک خصوصی ‘سمندری ممنوعہ زون’ قائم کر رہا ہے جو امریکی بحری ناکہ بندی کی آخری حدود تک پھیلا ہوا ہوگا۔

ایرانی حکام کے باضابطہ موقف کے مطابق تہران آنے والے چند دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کے باہر اس نئے ممنوعہ اور محدود بحری زون کے حتمی جغرافیائی حدود کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔ یہ زون امریکی بحری ناکہ بندی کی قائم کردہ لائن سے شروع ہو کر خلیج فارس کے انتہائی اہم حصوں تک محیط ہوگا، جبکہ تہران نے متنبہ کیا ہے کہ اس زون میں پیشگی اجازت کے بغیر داخل ہونے والے تمام تر تجارتی و عسکری بحری جہازوں کو ایرانی بلیک لسٹ اور سخت ترین پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

یہ سنگین اور پیش رفت سے بھرپور بیان ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطے کے سمندری محاذ پر امریکہ اور ایران کی افواج کے مابین براہِ راست اور خونریز تصادم کے خطرات ڈرامائی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ دنوں میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغے تھے، تاہم پینٹاگون کے مطابق دونوں امریکی عسکری جہاز ان حملوں سے محفوظ رہے اور ان کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جب کہ اس کے برعکس تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلی بار کامیابی کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائلوں سے امریکی بحری ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایرانی اقدامات کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی فوج ایران کو ہر امریکی جہاز پر حملے کے بدلے تین گنا معاشی قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستے پر بننے والی اس شدید جنگی صورتحال، املاک کی تباہی اور ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی اور بحری آمدورفت کی سلامتی پر شدید خطرات کے بادل منڈلا دیے ہیں۔

خلیجِ فارس میں ایران کے تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ: چار میزائل لگنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے انتہائی اہم اور تزویراتی خام تیل کے برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ہفتے کی صبح طاقتور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج کی جانب سے مبینہ طور پر میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کی رپورٹ کے مطابق خارگ جزیرے کے ساحل سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی فورسز کی طرف سے چار میزائل داغے گئے۔ ابتدائی موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور ٹینکر پر موجود تمام عملے کو باحفاظت نکالنے کا آپریشن ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ نے خارگ جزیرے کے ارد گرد سمندری حدود میں بیک وقت متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی رپورٹ جاری کی تھی، تاہم شروعات میں دھماکوں کی حتمی وجہ اور نقصان کے بارے میں صورتحال واضح نہیں تھی اور نہ ہی ساحلی علاقے سے دھوئیں کے بادل دکھائی دیے تھے۔

واقعے کی سنگینی کے باوجود ایرانی انتظامیہ اور امریکی حکام کی جانب سے اس بابت ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیقی یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس مبینہ کارروائی پر فوراً کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔

خارگ جزیرے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت:

خلیجِ فارس میں واقع خارگ جزیرہ ایران کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ملک کا سب سے بڑا اور مرکزی خام تیل برآمدی ٹرمینل قائم ہے جہاں سے سمندری راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں کو تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جنگ اور محاذ آرائی سے قبل ایران اپنی مجموعی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ اسی خارگ جزیرے کے ٹرمینل سے منتقل کرتا تھا، جس کے باعث اس تنصیب پر ہونے والا کوئی بھی حملہ نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھلے گا: ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا دبنگ اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری محاذ آرائی اور سمندری ناکہ بندی کے تناظر میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ ایران کی منشا اور مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھولی جائے گی۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک اہم اور تند و تیز بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حالیہ خوفناک جنگ کے برپا ہونے کے بعد امریکی افواج اور بحری بیڑے خوف کے باعث ایرانی سرحدوں سے تقریباً 500 میل دور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرانے میں ناکامی کے باعث اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جارحانہ اقدامات کر رہا ہے۔

ابراہیم عزیزی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی ہر قسم کی گیدڑ بھبکیوں اور عسکری دھمکیوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنی بے پناہ عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور سمندری سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔ امریکی پینٹاگون اور سنٹرل کمانڈ نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بین الاقوامی تجارتی و تیل بردار بحری جہازوں پر ڈرون و میزائل حملے کرنے کی ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

دوسری جانب، ایران نے امریکی فضائی حملوں کا سخت جوابی ردِعمل دیتے ہوئے اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ایئر بیسز پر پے در پے بیلسٹک میزائلوں اور انتحاری ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، جس کے باعث پورے خلیجی خطے میں عالمی توانائی اور بحری تجارت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں شدید پیش رفت: بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دو تیل بردار بحری جہاز دھماکے سے تباہ، آگ کی لپیٹ میں

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری انتہائی سنگین اور پیچیدہ عسکری کشیدگی کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے نیا اور چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ سمندری حدود میں دو تیل بردار بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شدید دھماکے کے بعد مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل ان دو آئل ٹینکرز کے عملے کو امریکی فوج کی ایماء پر اتار دیا گیا تھا اور ان جہازوں کو غیر قانونی راستہ عبور کرنے کے لیے امریکی عسکری عناصر کے اختیار میں دیا گیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے عسکری ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے قبل ایرانی بحریہ نے بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو بارودی سرنگوں سے آلودہ اس مخصوص سمندری گزرگاہ کو عبور کرنے کے شدید خطرات سے باضابطہ اور واضح طور پر خبردار کیا تھا۔

بیان میں امریکی اتحاد اور تجارتی اداروں کو شدید تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ جو بین الاقوامی بحری کمپنیاں قانونی اور محفوظ بین الاقوامی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکی جھانسے میں آتی ہیں اور اپنے تجارتی جہاز دشمن کے حوالے کرتی ہیں، ان کے لیے مزید سخت سزائیں تجویز کر لی گئی ہیں جن پر جلد اور مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔