بانیِ پاکستان قائداعظمؒ کی دیانت، اصول پسندی اور قومی عزم آج بھی ہماری مشعلِ راہ ہے: وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی برسی کے موقع پر اپنے ایک خصوصی اور پرعزم پیغام میں کہا ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی سچی دیانت، بے مثال اصول پسندی اور غیر متزلزل قومی عزم آج بھی ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کے لیے بنیادی سرچشمہ اور مشعلِ راہ ہیں۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے بانیِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے جاری کردہ رسمی بیان میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پاکستان کی ان گنت خدمات، بصیرت اور تاریخی قربانیوں کو دنیا کی تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظمؒ کا پیش کردہ تصورِ پاکستان ایک بنیادی طور پر مضبوط، خوددار، جدید، خودمختار، ہر شعبے میں ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست کی کامل عکاسی کرتا تھا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کی لازوال قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے برصغیر کے منتشر مسلمانوں کو ایک واحد اور واضح مقصد کے پرچم تلے متحد کر کے آزادیِ ہند اور قیامِ پاکستان کی عظیم جدوجہد کو کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم کا یومِ وفات پوری قوم کے لیے قائداعظمؒ کی لازوال قومی خدمات، تاریخی سرفروشی اور عظیم جدوجہد کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دیے گئے بلند افکار و نظریات پر ازسرنو غور کرنے کا ایک انتہائی اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے ملک کو درپیش معاشی و انتظامی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظمؒ کے سنہری فرمودات پر روح کے مطابق عمل درآمد ہی اس وقت پاکستان کو درپیش تمام درپیش معاشی و سیاسی چیلنجز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد، مضبوط نظم و ضبط اور قانون کی بلا تفریق پاسداری قائد اعظمؒ کے حقیقی پاکستان کی تعمیر کے سب سے بنیادی اور بنیادی اصول ہیں۔

رانا تنویر حسین نے اپنے پیغام کے اختتام پر تمام شہریوں پر زور دیا کہ تمام تر ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات سے یکسر بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، سالمیت اور ملکی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے خوابوں کی حقیقی تعبیر صرف اور صرف ایک مستحکم، معاشی طور پر خودمختار، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کے ذریعے ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

یومِ دفاعِ پاکستان پر وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ کا اہم پیغام؛ کسانوں، سائنسدانوں اور عسکری محافظوں کی مشترکہ محنت کو قومی مضبوطی کا ضامن قرار دیدیا

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر کا تاریخی دن ہمیں یہ بنیادی سبق یاد دلاتا ہے کہ وطنِ عزیز کی دفاعی اور سیاسی حفاظت صرف جغرافیائی سرحدوں پر نبرد آزما ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے ہر زرعی، معاشی اور انتظامی شعبے میں دیانت داری اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ قومی پیغام میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ جن عظیم شہیدوں اور غازیوں نے وطن کی سلامتی کے لیے اپنا آج قربان کیا، ان کی لازوال جدوجہد ہی ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ، باوقار اور پرامن کل کی حتمی ضمانت ہے۔

رانا تنویر حسین نے ملک کو درپیش معاشی و غذائی درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی حقیقی خودمختاری کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم عسکری دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی بنیادی غذائی ضروریات میں بھی اپنے پاؤں پر مستقل بنیادوں پر کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سیکیورٹی اور غذائی تحفظ ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے بنیادی قومی مفادات ہیں، جنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے محنت کش کسان، زرعی سائنسدان، مزدور اور عسکری محافظ سب یکساں طور پر پاکستان کی دفاعی اور معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یومِ دفاع ہمیں اپنی تمام تر قومی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر پاکستان کو مزید مضبوط اور خودکفیل بنانے کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ترین دور میں قومی طاقت کا انحصار روایتی دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی، زرعی، اور غذائی استحکام پر پنہاں ہے۔ موجودہ حکومت جہاں ایک طرف ملک کو خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے، وہاں دوسری طرف اسے زرعی طور پر مستحکم اور خودکفیل بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یومِ دفاع پر پاکستان کی بہتری، خودکفالت اور قومی خدمت کا عزم بھی دہرایا۔

ایتھوپیا اور پاکستان کا زراعت، لائیو سٹاک اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں پیش رفت کے لیے زراعت میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے زرعی اداروں کے درمیان علم اور تجربات کے تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ایک جامع زرعی معاہدے کی تجویز سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سفیرِ ایتھوپیا نے اپنے ملک کی معیشت میں زراعت کی اہمیت اور حکومتِ ایتھوپیا کی جانب سے اس شعبے کو دی جانے والی ترجیح پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ایتھوپیا کے “گرین لیگیسی انیشی ایٹو” کو پائیدار ترقی، زرعی نمو اور غذائی تحفظ کا جامع پروگرام قرار دیتے ہوئے اس کا تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی اور پاکستانی زرعی کاروباری شخصیات کو ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وفاقی وزیر کو 2027ء میں ادیس ابابا میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس “کوپ 32” کی میزبانی سے متعلق تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی تحقیق، جدید کاشتکاری کی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی، لائیو سٹاک اور ایگرو پروسیسنگ کے شعبوں میں پاکستان کی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے مکمل تکنیکی معاونت کی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فصلوں کی پیداواری صلاحیت، معیاری بیجوں کی تیاری، موسمیاتی اثرات سے محفوظ زراعت اور مشینی کاشتکاری میں تعاون کو نمایاں وسعت دے سکتے ہیں۔