

محمود احمد, September 12,2026
ڈبلن (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثی عسکریت پسندوں نے واشنگٹن سے براہِ راست رابطہ کر کے درخواست کی ہے کہ امریکی افواج ان کے خلاف یمن میں کسی قسم کا فوجی آپریشن یا عسکری کارروائی نہ کریں۔
آئرلینڈ کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران دارالحکومت ڈبلن کے فارم لیہہ ہاؤس میں آئرش وزیراعظم مائیکل مارٹن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور حوثیوں کے درمیان رابطہ قائم ہوا ہے۔ حوثی نمائندوں نے واضح پیغام بھیجا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کا مسلح تصادم نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ یہ چاہتے ہیں کہ امریکی افواج ان کو نشانہ بنائیں۔
امریکی صدر نے حوثیوں کے اس رابطے کا حوالہ دیتے ہوئے پرامید انداز میں کہا، “حوثیوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے اور وہ ہمارے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم ان کے خلاف کارروائی کریں۔ میرا ماننا ہے کہ خطے میں صورتحال بہت جلد عمدہ اور شاندار انداز میں حل ہو جائے گی۔”
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی اور تزویراتی باب المندب کے قریب تین اہم جزائر پر قبضہ کر کے اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حال ہی میں صدر ٹرمپ سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے حوثیوں کے خلاف امریکی فضائی و عسکری حملوں کی درخواست کی تھی، تاہم صدر ٹرمپ نے فی الوقت یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ احمر میں شدید کشیدگی کے باوجود واشنگٹن فی الحال یمن کی جنگ میں براہِ راست کودنے سے گریزاں ہے اور سفارتی و تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
