عمران خان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کر کے ہسپتال منتقل کیا جائے: فواد چوہدری کا مطالبہ

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت سے ان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کرنے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد یہ بات انتہائی ضروری ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی سے نکال کر علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور قیدِ تنہائی میں رکھنا شدید قابلِ مذمت ہے، لہٰذا طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے معالجین نے ان کی صحت، بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم سفارشات مرتب کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے احاطے اور ماحول میں نرمی لائی جائے، انہیں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی اجازت دی جائے اور ان کی ذہنی مصروفیت کے لیے کتب، اخبارات، میگزینز اور ٹی وی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ نے اہلیہ اور اہلخانہ سے ملاقاتوں کے وقت اور دورانیے میں اضافے کی بھی خصوصی سفارش کی ہے تاکہ ان کی صحت کو معمول پر لایا جا سکے۔

فواد چوہدری کا داؤ: “موجودہ نظام بالکل ناکام ہو چکا، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں عمران خان کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں”

منصور احمد, August 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور حکومت عملی طور پر فارغ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کا آغاز ہونا ضروری ہے، تاہم تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے بغیر ایسا کوئی بھی مذاکراتی عمل ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا۔

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ تین وفاقی وزراء خود وزیراعظم کی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے اور عدم اعتماد کی تحریک کے وقت ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ ملک نہیں چلا سکتا۔

پنجاب کی ممکنہ تقسیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاحات صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اصل مسائل دیگر صوبوں میں ہیں۔ پاکستان چند بلوچ اور سندھی وڈیروں کی منشا کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا اور بلوچستان کو 1970ء سے پہلے والی اصل سیاسی و انتظامی بنیادوں پر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری نے زور دے کر کہا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت پوری طرح کھو چکا ہے اور اب اس میں متبادل اصلاحات پر بات ہونا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ نئے صوبے، بلدیاتی نظام اور ذیلی انتظامی حدود جیسے موضوعات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے کیونکہ پرانے طرزِ حکمرانی کو زبردستی جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

حکومتی اخراجات اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہانہ اخراجات کی ایسی مثالیں ماضی میں بھی نہیں ملتی۔ اربوں روپے کے جہاز کی خریداری، مختلف تقاریب کے بے دریغ اخراجات، وکلاء و صحافیوں میں مبینہ فنڈز کی تقسیم اور بیوروکریسی کے لیے اربوں روپے جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کا بے دردی سے زیاں کیا جا رہا ہے۔