پاکستانی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی کوریج محدود اور واقعاتی ہے: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی تحقیقی رپورٹ

کاشف عباسی , August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

پاکستان کے قومی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب اور اس کے تباہ کن اثرات کی کوریج زیادہ تر واقعاتی اور محدود نوعیت کی رہی ہے، جبکہ تقریباً ستتر فیصد خبریں صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہیں اور قبل از وقت تیاری، ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی موافقت اور طویل المدتی لچک جیسے اہم حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ اہم انکشافات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے ریسرچ اسکالر محمد سلیم شیخ کی نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض کی نگرانی میں مکمل کی۔ اس تحقیق میں سال دو ہزار تئیس اور دو ہزار چوبیس کے دوران شائع ہونے والے دو سو سات مضامین، خبروں اور اداریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق انگریزی اخبارات نے اردو اخبارات کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی کوریج دی، تاہم یہ خبریں شاذ و نادر ہی صفحہ اول پر نمایاں ہوئیں۔ کوریج میں فوری نقصانات اور معاشی اثرات کو زیادہ ترجیح دی گئی جبکہ پالیسی اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی کو نظر انداز کیا گیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر جنرل محمد آصف صاحبزادہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے تقریباً بیس لاکھ افراد کو اس مسئلے سے مسلسل خطرات درپیش ہیں، جس کے لیے میڈیا کا باقاعدہ اور باخبر نقشِ راہ انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ صحافیوں کی خصوصی تربیت اور موسمیاتی ماہرین کے ساتھ میڈیا کے قریبی تعاون کے ذریعے حل پر مبنی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔

اپر چترال میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی: سڑکیں، پل اور مکانات متاثر، پاک فوج کی ریسکیو کارروائیاں جاری

منصور احمد, August 10,2026

اپر چترال (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

خیبرپختونخوا کے ضلع اپر چترال میں طوفانی بارشوں اور تباہ کن فلیش فلڈ (سیلابی ریلوں) نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں سڑکیں، پل، مکانات اور زرعی اراضی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ملبے اور مٹی کے بڑے پیمانے پر جمع ہو جانے کے باعث علاقے میں آمدورفت اور عام معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جگھور گول، شوٹ اور ہنجوگول کے علاقوں میں آنے والے تیز رفتار سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور گلیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ متعدد علاقوں کا رابطہ دیگر اضلاع سے کٹ گیا تھا اور کئی شہری سیلابی پانی میں پھنس کر رہ گئے۔

بحران کی اس صورتحال میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا نارتھ کے جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور بڑے پیمانے پر امدادی و ریسکیو سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے سیلاب میں گھرے شہریوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ بند سڑکوں اور شاہراہوں پر جمع ہونے والے مٹی اور پتھروں کے ملبے کو ہیوی مشینری کے ذریعے ہٹا کر سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی سامان کی فراہمی میں دشواری پیش نہ آئے۔

مقامی رہائشیوں نے اس آفت کی گھڑی میں بروقت امدادی کارروائیوں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی بروقت مدد ہماری اولین ترجیح ہے اور تمام متاثرہ علاقوں میں بحالی کے مکمل ہونے تک ریسکیو و امدادی کام جاری رہیں گے۔