پاکستان اور لبنان کے سیکیورٹی روابط میں پیش رفت: لبنانی وزیر داخلہ احمد الحجار کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات

منصور احمد,September 14,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

پاکستان اور لبنان نے خطے میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور دوطرفہ تعلقات کو مزید متحرک بنانے کے لیے اپنے سیکیورٹی و سفارتی روابط کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت لبنان کے وزیر داخلہ و بلدیات احمد الحجار کے دو روزہ سرکاری دورہ پاکستان کے دوران سامنے آئی، جس کے دوران انہوں نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی ملاقات کی۔

علاقائی سلامتی اور سیکیورٹی تعاون:

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر گہرا تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بالخصوص سیکیورٹی اور داخلہ امور کے شعبوں میں پاکستان اور لبنان کے درمیان دوطرفہ تعاون کی نئ راہوں اور امکانات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے علاقائی سلامتی کے ماحول میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے پیشِ نظر سیکیورٹی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع اور موثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

تاریخی اور سفارتی تعلقات:

پاکستان اور لبنان کے درمیان دہائیوں سے دوستانہ سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک متعدد بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ رابطہ کاری رکھتے ہیں۔ لبنانی وزیر داخلہ کا یہ دو روزہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی اور سیکیورٹی روابط کو زیادہ متحرک بنانے کی کڑی ہے۔

اگرچہ اس ملاقات کے دوران کسی نئے باضابطہ معاہدے یا مشترکہ آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دفاعی و سفارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ لبنان جیسے کلیدی مشرقی بحیرہ روم کے ملک کے اعلیٰ حکام کا جی ایچ کیو کا دورہ دونوں ممالک کی عسکری و سیکیورٹی قیادت کے بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کی بریفنگز، جی ایچ کیو راولپنڈی کے ہینڈ آؤٹس اور سفارتی ڈیسک کی اطلاعات کی روشنی میں ہمارے ایڈیٹوریل معیار کے مطابق تدوین کی گئی ہے۔

ماخذ: آئی ایس پی آر (ISPR) جی ایچ کیو راولپنڈی۔

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی روابط مزید مستحکم کرنے کا عزم: انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات

منصور احمد,September 14,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

پاکستان اور انڈونیشیا نے باہمی عسکری تعلقات، سلامتی کے امور اور مشترکہ دفاعی چیلنجز سے نپٹنے کے لیے اپنے برادرانہ روابط کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی ملاقات کی۔

Mulaqat کے دوران دونوں عسکری رہنماؤں نے علاقائی سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال، باہمی دلچسپی کے پیشہ ورانہ امور اور دونوں مسلم ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو نئے افق فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

مشترکہ مشقوں اور تربیتی تبادلوں پر اتفاق:

ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق، ملاقات میں دونوں جانب سے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان قائم موجودہ عسکری تعلقات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے بالخصوص پیشہ ورانہ فوجی تربیت، دفاعی صنعتی شعبے اور بری و بحری مشترکہ عسکری مشقوں کا دائرہ کار بڑھانے پر اتفاق کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ اپنے تاریخی اور دیرینہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے خطے میں درپیش سلامتی کے چیلنجز کے تناظر میں دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطہ کاری اور تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔

انڈونیشین نیوی چیف کا اعتراف:

انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے پاک مسلح افواج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں، آپریشنل تیاریوں اور خطے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ان کی مسلسل قربانیوں اور خدمات کو سراہا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان عسکری سطح پر مسلسل رابطہ قائم ہے۔ اس سے قبل جنوری 2026ء میں انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) شافری شمس الدین نے بھی جی ایچ کیو کا دورہ کر کے دفاعی صنعتی اور تربیتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی تھی۔

اگرچہ اس ملاقات کے دوران کسی نئے عسکری معاہدے یا ہتھیاروں کی خرید و فروخت کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحرہ ہند اور بحر الکاہل کے خطے میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر دونوں ممالک کی بحری و بری فورسز کا قریب آنا علاقائی توازن کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے باضابطہ ہینڈ آؤٹ، جی ایچ کیو میڈیا سیل اور دفاعی خبر رساں اداروں کی پریس بریفنگز کی روشنی میں ایڈیٹوریل پالیسی کے مطابق تحریر کی گئی ہے۔

ماخذ: آئی ایس پی آر (ISPR) پریس ریلیز، جی ایچ کیو راولپنڈی ڈیسک۔

بلوچستان میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خوفناک آپریشنز: خاران اور واشک میں 11 شدت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 09,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے باضابطہ جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس اضلاع خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خطرناک شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

عسکری ترجمان آئی ایس پی آر کے باضابطہ بیان کے مطابق، شدت پسندوں کے ایک مسلح گروہ نے 6 ستمبر کو ضلع خاران کی مرکزی شاہراہ کو زبردستی بند کر کے ٹریفک کی عمومی روانی کو بری طرح متاثر کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو گھیر لیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے اور مقابلے کے نتیجے میں 8 شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر کو ضلع واشک کے پیچیدہ اور دور دراز علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ان کے خفیہ ٹھکانے پر ہدف پر مبنی کارروائی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے سخت تبادلے کے بعد مزید 3 شدت پسند انجام کو پہنچے۔

شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کامیاب اور منظم کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے تحویل سے 2.9 ٹن کی بڑی مقدار میں انتہائی حساس اور خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ بم دھماکے اور آئی ای ڈیز تیار کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی اور سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے والے عناصر کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کا ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ

منصور احمد, September 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

دفاعِ وطن، بقائے وطن اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملک کی مسلح افواج ہر لمحہ اور ہر آن مکمل تیار ہیں۔ یومِ دفاع و شہداء کے تاریخی موقع پر افواجِ پاکستان نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں نے اپنے خصوصی اور جذباتی پغامات میں کہا ہے کہ پاک فوج کا ہر ایک جوان وطنِ عزیز کا حقیقی محافظ ہے اور ہم اس کی بقا اور سلامتی کے سچے امین ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس پاک سرزمین کی سرحدوں کی نگہبانی کے ساتھ ساتھ ملک کے حال اور روشن مستقبل کے خیرخواہ بھی ہیں۔

افواجِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا، پاک افواج کے غازیوں اور شہیدوں نے سینہ سپر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ وطن سے عشق کے جذبے کے تحت پاک فوج نے ہر آزمائش میں اپنی قومی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے اور ایک پاکستانی ہونے پر ہمیشہ دل سے فخر کیا ہے۔

مسلح افواج کے ترجمانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک افواج اور ملک کی غیرت مند عوام اس دھرتی کے خوابوں اور قوم کی امیدوں کو باہم متحد ہو کر آگے بڑھائیں گے۔ 6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر وطن کے ان بے باک محافظوں نے مسلسل محنت، لگن اور مکمل اتحاد کے ساتھ پاکستان کو اس کی حقیقی منزلِ مقصود تک پہنچانے کے پختہ عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: دو دنوں میں 48 عسکریت پسند ہلاک

منصور احمد, September 04,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی وسیع پیمانے کی کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو روز میں مجموعی طور پر 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سیکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ‘فتنہ الخوارج’ (کالعدم تحریکِ طالبان) اور ‘فتنہ الہندوستان’ (بلوچ علیحدگی پسند گروپس) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے۔ ان تازہ کارروائیوں میں 36 عسکریت پسند اور شدت پسند ہلاک کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 4 ستمبر کو ضلع مستونگ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 6 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

ضلع قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور کامیاب آپریشن کیا گیا، جہاں فورسز نے شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 عسکریت پسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

علاوہ ازیں ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر دہشت گردوں کے حملے کی ایک بڑی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران 2 شدت پسند مارے گئے، جبکہ علاقے میں ممکنہ شرپسندوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان کی تقدیر صرف اس کے عوام کے ہاتھوں میں ہے: آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صوبے کی سیاسی و سماجی قیادت سے اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 21,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن کے مذموم عزائم کو قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی غیر متزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر ناکام بنایا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات اور قیادت سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، اور بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ واضح قومی بیانیہ، دیرپا امن اور استحکام ہی صوبے کی حقیقی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلوچستان کے وافر انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کی حقیقی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہیں جنہیں بااختیار بنانا پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیز ہیں جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دشمن کے منفی پراپیگنڈے کا جامع اور بلا جھجھک مقابلہ کرنے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان کے عوام کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ صرف اس کے اپنے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ ملاقات میں موجود ممبران اور رہنماؤں نے بھی امن و ترقی کی راہ میں افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بلوچستان کے ضلع سوراب میں دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 18 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری بھی جاں بحق

منصور احمد, August 12,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کی تیاری کے دوران قبل از وقت دھماکے اور اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ‘فتنۃ الہندوستان’ سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ قبل از وقت ہونے والے اس دھماکے اور قریبی بارودی مواد کے پھٹنے سے علاقے کے 3 عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سوراب میں دہشت گرد گاڑی میں بم نصب کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہو گیا، جس سے موقع پر ہی 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مزید 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو بہادر جوان بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود باقی ماندہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے اور کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری اور ‘عزمِ استحکام’ کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔

اپر چترال میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی: سڑکیں، پل اور مکانات متاثر، پاک فوج کی ریسکیو کارروائیاں جاری

منصور احمد, August 10,2026

اپر چترال (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

خیبرپختونخوا کے ضلع اپر چترال میں طوفانی بارشوں اور تباہ کن فلیش فلڈ (سیلابی ریلوں) نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں سڑکیں، پل، مکانات اور زرعی اراضی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ملبے اور مٹی کے بڑے پیمانے پر جمع ہو جانے کے باعث علاقے میں آمدورفت اور عام معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جگھور گول، شوٹ اور ہنجوگول کے علاقوں میں آنے والے تیز رفتار سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور گلیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ متعدد علاقوں کا رابطہ دیگر اضلاع سے کٹ گیا تھا اور کئی شہری سیلابی پانی میں پھنس کر رہ گئے۔

بحران کی اس صورتحال میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا نارتھ کے جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور بڑے پیمانے پر امدادی و ریسکیو سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے سیلاب میں گھرے شہریوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ بند سڑکوں اور شاہراہوں پر جمع ہونے والے مٹی اور پتھروں کے ملبے کو ہیوی مشینری کے ذریعے ہٹا کر سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی سامان کی فراہمی میں دشواری پیش نہ آئے۔

مقامی رہائشیوں نے اس آفت کی گھڑی میں بروقت امدادی کارروائیوں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی بروقت مدد ہماری اولین ترجیح ہے اور تمام متاثرہ علاقوں میں بحالی کے مکمل ہونے تک ریسکیو و امدادی کام جاری رہیں گے۔

سانحہ براڈ پیک: جاں بحق کوہ پیماؤں کی میتیں اسلام آباد منتقل، ریکوری آپریشن مکمل

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے غیر ملکی و مقامی کوہ پیماؤں کی میتیں اسکردو سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں۔ دشوار گزار اور شدید برفانی علاقے سے میتوں کو نکالنے کا پیچیدہ آپریشن پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں، تجربہ کار پاکستانی کوہ پیماؤں اور نیپالی شیرپاز کی مشترکہ کوششوں سے کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 30 جولائی کو براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے باعث 10 کوہ پیما جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد کئی روز تک شدید ترین موسمی حالات کے باوجود ریسکیو اور ریکوری آپریشن جاری رکھا گیا۔ ریکور کی جانے والی میتوں میں نیپال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پورجا سمیت متعدد غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں شامل ہیں۔

حکام اور سفارتی ذرائع کے مطابق کوہ پیماؤں کی میتیں اب ان کے آبا و اجداد کے ممالک میں روانگی کے لیے تیار ہیں۔ نرمل پورجا کی میت جلد برطانیہ روانہ کی جائے گی جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ جبکہ چینی کوہ پیما کی میت چین اور نیپالی شیرپاز کی میتیں نیپال بھیجی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل یکتا شیرپا کی میت نیپال اور عمانی خاتون کوہ پیما کی میت پہلے ہی عمان منتقل کی جا چکی ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے دیگر کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی کی منتقلی کے تمام قانونی اور سفارتی مراحل تیزی سے طے کیے جا رہے ہیں۔ تاھم اس المناک حادثے میں تین افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، ایک نیپالی شیرپا اور ایک امریکی خاتون کوہ پیما شامل ہیں، جن کی تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں ‘آپریشن گرج 11’ کے تحت سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری: متعدد خوارج ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 02,2026

باجوڑ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خیبرپختونخوا میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے “آپریشن گرج 11” کے تحت موثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران فورسز نے متعدد خوارج کو جہنم واصل کرتے ہوئے ان کے خفیہ ٹھکانے کامیابی سے تباہ کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد سہولت کاروں کو حراست میں لیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ باجوڑ کے علاقے شاکرو میں کی گئی ایک مخصوص انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو انتہائی موثر اور نشانہ انداز میں تباہ کیا۔

باجوڑ میں کی جانے والی ان کامیاب پیش قدمیوں کے دوران متعدد خوارج کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے “آپریشن گرج 11” کے دوران خوارجین کے زیرِ استعمال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور بموں کو بھی موقع پر ہی ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی افواج اور کواڈ کاپٹر ٹیکنالوجی کے امتزاج سے کی جانے والی ان سرجیکل کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مقامی آبادی سے فرار ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تمام عملیات میں اس بات کو خاص طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے کہ عام شہریوں کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور مقامی آبادی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خیبرپختونخوا میں دیرپا امن کے قیام تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: خودکش بمبار سمیت ‘فتنہ الہندوستان’ کے 7 دہشت گرد جہنم واصل

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں انڈین پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے خودکش بمبار سمیت 7 انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔

ہفتہ کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز کے مطابق، 30 اور 31 جولائی 2026ء کی درمیانی شب انتہائی مہارت سے کیے گئے اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی خفیہ جائے پناہ کی درست نشاندہی کی۔ فورسز کی بروقت اور موثر سرجیکل کارروائی کے نتیجے میں خودکش بمبار سمیت تمام 7 انڈین سپانسرڈ دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کا بھاری مقدار میں گولہ بارود اور دستی ساختہ دھماکہ خیز مواد کا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دیگر انڈین سپانسرڈ دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن مسلسل جاری ہے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیانیے میں اس عزم کا دہرایا کہ سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کی تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں وفاقی اپیکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے “عزمِ استحکام” کے ویژن کے تحت بیرونی امداد و مالی معاونت سے چلنے والی دہشت گردی کے اس ناسور کو ملک سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی بلاامتیاز انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خضدار میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر پاک فوج اور تمام متعلقہ اداروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ایک بار پھر اپنی بے مثال صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

پنجشنبہ (جمعرات) کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن کے دوران 4 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے اور بارودی مواد سے لدی 2 گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے دشمن کا بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت اقدام کی شدید پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیرونی ایما پر پاکستان کا امن و امان تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی ہر مذموم کوشش کو اسی طرح خاک میں ملا دیا جائے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ارضِ پاک سے دہشت گردی اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی شرپسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بلاامتیاز آپریشن اور یکسو کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے امن، استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے لیے ان کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بے حد قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

سکیورٹی فورسز کا ضلع خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بارود سے بھری دو گاڑیاں تباہ، 4 دہشت گرد ہلاک

کاشف عباسی , JULY 30,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بڑی اور تیز رفتار کارروائی انجام دیتے ہوئے بھارتی پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے شوم منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس خصوص آپریشن کے دوران بارودی مواد سے لدی دو گاڑیاں کامیابی سے تباہ کر دی گئیں جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ساتھ خطرناک خوارجی و بھارتی حمایت یافتہ عناصر کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں گاڑیوں سمیت ان کے ڈرائیورز اور ساتھی 4 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں بارودی گاڑیوں کو بروقت نشانہ بنا کر کسی بھی بڑے تباہ کن حادثے اور ممکنہ نقصان سے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے۔ فی الوقت علاقے میں چھپے کسی بھی دوسرے ہدف یا بھارتی سرپرستی میں فعال دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر سے بلاامتیاز دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بیرونِ ملک خصوصاً بھارت کی سرپرستی، معاونت اور مالی امداد سے پاکستان میں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے ان تمام عناصر اور ناسور کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔