

محمود احمد, August 27,2026
اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی بگڑتی ہوئی انتہائی حساس صورتحال پر منعقدہ اہم ماہانہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسـطینی خطہ اس وقت تاریخ کے سب سے نازک اور خطرناک ترین موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالیاں، غیر قانونی الحاق کی کوششیں اور مظلوم فلسـطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس بیانیے میں قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف، اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف اور محترمہ رے برن کی بریفنگز کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی حقائق کو دانستہ تبدیل کرنے کے تمام اسرائیلی اقدامات دراصل ایک خودمختار فلسـطینی ریاست کی جغرافیائی و سیاسی بنیادوں کو تباه کرنے کی ناپاک کوشش ہیں۔
پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے تفصیلی خطاب کے دوران سلامتی کونسل اور عالمی ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غير قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک جاری ہیں جبکہ متنازع علاقوں میں پیش رفت عملاً مغربی کنارے کو منقسم کر کے ہزاروں فلسـطینیوں کو جبری بے دخلی کے شدید خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے گروپ نے اسرائیلی آبادکاری کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں اور الحاق کے منصوبوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے خلاف ایک تبا ہ کن اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض یہودیوں اور آبادکاروں کی جانب سے عام شہریوں پر تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جن میں سے سینکڑوں حملے ریکارڈ پر آ چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر ان مظالم کو روکنے کے لیے تاحال کوئی مضبوط عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا جو کہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
مالیاتی جارحیت اور معاشی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے اربوں ڈالر کے فلسـطینی کلیئرنس ریونیو اور رقوم کی مسلسل اور غیر قانونی روک تھام نے فلسـطینی کو معاشی بحران اور شدید مالیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے باعث وہاں کے معصوم شہریوں کے لیے بنیادی زندگی کی سہولیات اور طبی خدمات کی فراہمی بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا یہ روک رکاوٹیں فوری طور پر ختم کر کے رقوم کی بلا تاخیر منتقلی یقینی بنائی جائے۔ غزہ کی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر سخت سوال اٹھایا کہ اگر جنگ بندی کے اعلانات اور سفارتی دعوے موجود ہیں تو پھر غـزہ میں ہر روز معصوم شہری، خواتین اور بچے کیسے شہید کیے جا رہے ہیں، ہلاکتیں اور تباہی کا سلسلہ کیوں نہیں تھما اور جنگ بندی کے بعد سے اب تک بارہ سو سے زائد فلسـطینی کس بنیاد پر جاں بحق ہوئے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قابض قوتیں عالمی مطالبات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مکمل طور پر ہوا میں اڑا رہی ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی امن قراردادوں کے باوجود اسرائیل کی طرف سے مسلسل فوجی کشیدگی، بمباری اور روڈ میپ کی کھلی خلاف ورزیاں پورے سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی سازش ہیں تاکہ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا جا سکے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے اور اس کی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں اور غیر قانونی جبری مداخلت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اقوامِ متحدہ کے تمام دفاتر، سکولوں، تربیتی مراکزی اور سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی ضوابط کا پابند بنایا جائے کیونکہ کسی بھی ملک کو اقوامِ متحدہ کے منشور پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان نے اپنا چار نکاتی ہنگامی حل پیش کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی قانونی، جغرافیائی اور آبادیاتی ہیئت کو تبدیل کرنے کے تمام غیر قانونی اقدامات، الحاق کی سازشوں اور جبری بے دخلی سے فوری طور پر روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ امن منصوبے پر سچے دل اور مکمل شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کا آغاز کیا جائے جبکہ جن طاقتور عالمی ممالک کا اس خطے میں اثر و رسوخ ہے وہ اپنے سفارتی اور معاشی ذرائع کو استعمال میں لا کر اسرائیل کو عالمی قوانین کی پاسداری پر مجبور کریں اور فلسـطینیوں پر ڈھائے جانے والے جنگی جرائم کے تمام ذمہ داران کا عالمی عدالتوں میں سخت محاسبہ کیا جائے۔ پاکستانی مندوب نے اپنے بیان کے اختتام پر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسـطین کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل نظریاتی، اخلاقی اور سفارتی یکجہتی ہمیشہ کی طرح غیر متزلزل ہے اور ہم ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں دائمی اور حقیقی امن کی واحد راہ یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انیس سو سرسٹھ سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار اور پائیدار فلسـطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔