پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، جبکہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پنجاب کے زیادہ تر اہم دریاؤں میں پانی کی آمد و رفت اور بہاؤ اس وقت معمول کے مطابق ریکارڈ کیا جا رہا ہے، تاہم بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں دو مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ترجمان کی جانب سے یکم اور 6 ستمبر کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ بالکل نارمل ہے اور تمام تمام کنٹرول سٹرکچرز محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی مختلف پہاڑی روڈ کوہیوں میں بھی فی الوقت پانی کی آمد اور بہاؤ معمول کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے انکشاف کیا کہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 6 ہزار کیوسک درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ اور نارووال کے قریب واقع برسات نالہ ڈیک (کنگرا کے مقام پر) بھی اس وقت نچلے درجے کی سیلابی کیفیت میں ہے۔ پانی کے ذخائر کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 79 فیصد تک بھر چکا ہے۔

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع بشمول لاہور، سرگودھا، شیخوپورہ، فیصل آباد، چکوال، راولپنڈی، حافظ آباد، جھنگ، سیالکوٹ، ساہیوال، قصور، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جوہر آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، مری، نورپور تھل اور اٹک میں مون سون کی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب، محمد سیف انور جپہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں میں فوری طور پر تمام سہولیات سے لیس فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں ممکنہ متاثرین کے لیے عارضی رہائش، پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات، طبی ٹیمیں اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی بدلتی صورتحال اور سیلابی خدشات کے پیشِ نظر مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ غیر ضروری طور پر دریاؤں، نہروں، برسات نالوں اور پانی کی گزرگاہوں پر سیر و تفریح یا پکنک سے سخت گریز کریں۔ خاص طور پر والدین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سخت نگرانی کریں اور انہیں ہرگز ڈوبنے کے خطرے والی نہروں یا سیلابی نالوں میں نہانے کی اجازت نہ دیں۔ کسی بھی ہنگامی کیفیت میں ضلاعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

پنجاب میں مون سون کا چوتھا سلسلہ جاری: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نورپور تھل، لاہور اور سیالکوٹ سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں شدید بارشیں ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مون سون کے جاری نئے سلسلے سے متعلق تازہ ترین اطلاعات و احصائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز اور متعدل مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ بارش ضلع خوشاب کے علاقے نورپور تھل میں 52 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ مائل بہ کرم بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے تحت تاج پورہ میں 28 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن میں 24 ملی میٹر، پانی والا تالاب کے علاقے میں 20 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 16 ملی میٹر جبکہ مناواں میں 12 ملی میٹر تک بارش باضابطہ طور پر ریکارڈ کی گئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

صوبے کے دیگر اضلاع اور شہروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سیالکوٹ ایئرپورٹ کے علاقے میں 26 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 21 ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 15 ملی میٹر، ملک کے معروف پہاڑی تفریحی مقام مری میں 7 ملی میٹر، جڑواں شہر راولپنڈی میں 5 ملی میٹر، جبکہ صنعتی شہر فیصل آباد اور حافظ آباد میں 4, 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، جھنگ، ساہیوال، بھکر، شیخوپورہ اور جہلم کے اضلاع میں بھی ہلکی اور ٹریس (Trace) بارش کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی اور موسمیاتی ماڈلز کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ مزید مون سون بارشوں کا قومی امکان موجود ہے، اور بارشوں کا یہ چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست 2026ء تک وقفے وقفے کے ساتھ تسلسل سے جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بارشوں کے متوقع خطرات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب محمد سیف انور جپہ نے اپنے ایک خصوصی بیان میں آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت اور واضح ہدایات کے پیشِ نظر تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو 1122 اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام الناس سے پرزور اپیل کی ہے کہ شہری کچے، پرانے اور بوسیدہ مکانات و چھتوں کے نیچے ہرگز قیام نہ کریں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ آسمانی بجلی، تیز گرج چمک اور طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور بجلی کے کھمبوں و کھلے پانی سے دور رہیں۔ کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتِ حال، ریسکیو یا امداد کے لیے شہری پی ڈی ایم اے کی کنٹرول روم ہیلپ لائن 1129 پر فوراً رابطہ کر سکتے ہیں۔