ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ: محکمہ موسمیات کی اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کی تنبیہ

روزینہ اسماعیل, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ بعض مقامات پر شدید موسلادھار بارش کا بھی امکانی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے جاری کردہ انتباہ کے مطابق ویک اینڈ کے دوران متوقع شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ مری، گلیات، کشمیر اور اسلام آباد و راولپنڈی کے ندی نالوں میں طغیانی جبکہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، مری، گلیات اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مون سون ہوائیں اور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہو رہا ہے جو اگلے دو روز تک برقرار رہے گا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش اسلام آباد کے علاقے گولڑہ میں 61 ملی میٹر اور راولپنڈی کے شمس آباد میں 51 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ گرم ترین مقامات میں نوکنڈی اور دالبندین رہے جہاں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، چند مقامات پر بارش کا امکان: محکمہ موسمیات

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت ہوا کا سیزنل کم دباؤ شمال مشرقی بلوچستان پر موجود ہے جبکہ ملک کے بالائی حصوں میں کمزور مون سون ہوائیں داخل ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی ملک کے اکثر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم قصور کے علاقے میں 1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ملک میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی جہاں سب سے زیادہ درجہ حرارت دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جبکہ سبی، دالبندین، سکھر، روہڑی اور خیرپور میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے ملک کے بڑے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کے حوالے سے نیا الرٹ جاری: 2 تا 4 اگست کے دوران پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک بھر میں 2 سے 4 اگست کے دوران تمام بڑے دریاؤں، ندی نالوں اور آبی ذخائر میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اور غیر معمولی اضافے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے نیا ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس وقت دریائے لہڑی میں ہیڈ گوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے قریب نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، گدو اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کی طغیانی جاری ہے، جبکہ دریائے ناری میں ہیڈ ناری پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

این ای او سی کی تازہ پیشگوئی کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے جبکہ خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے سے درمیانے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان کے معاون ندی نالوں میں نچلے سے درمیانے درجے کے پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ راوی، جہلم اور چناب سے منسلک ندی نالوں میں شدید طغیانی آ سکتی ہے، جبکہ راوی اور ستلج میں مجموعی صورتحال کا انحصار بھارتی آبی ذخائر سے پانی کے متوقع اخراج پر ہوگا۔

این ڈی ایم اے نے مزید خبردار کیا ہے کہ ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں، وسطی و جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان کے ندی نالوں میں اچانک طوفانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا شدید خطرہ موجود ہے۔ مزید برآں راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ اور سندھ کے دیگر نشیبی شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مون سون کے اس خطرناک اسپیل کے دوران غیر ضروری سفر اور پہاڑی علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں سے مکمل گریز کریں۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے ریلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ تیز بہاؤ والے سیلابی پانی کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں کیونکہ کم گہرا پانی بھی شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ سفر کے دوران خشک خوراک، پینے کا پانی، پاور بینک اور ابتدائی طبی امداد کا سامان ساتھ رکھیں اور باخبر رہنے کے لیے ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ’ ایپ استعمال کریں۔

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، دریائے سندھ میں کالاباغ و چشمہ پر نچلے جبکہ نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق قائم ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل سطح پر برقرار ہے۔ دریائے سندھ میں کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 63 ہزار کیوسک اور چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 94 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں پانی کا بہاؤ 3 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیش نظر ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا (یا سیف انور جپہ) نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بالائی کیچمنٹ ایریاز میں متوقع شدید بارشوں کے سبب مشرقی دریاؤں اور ان سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں شدید اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں اور ندی نالوں کے پاٹ میں مقیم تمام شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی سخت ہدایت جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے متاثرہ تمام علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں خوراک، ادویات اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری سیر و تفریح سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے نہ دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔

پنجاب میں مون سون کا چوتھا سلسلہ جاری: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نورپور تھل، لاہور اور سیالکوٹ سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں شدید بارشیں ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مون سون کے جاری نئے سلسلے سے متعلق تازہ ترین اطلاعات و احصائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز اور متعدل مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ بارش ضلع خوشاب کے علاقے نورپور تھل میں 52 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ مائل بہ کرم بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے تحت تاج پورہ میں 28 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن میں 24 ملی میٹر، پانی والا تالاب کے علاقے میں 20 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 16 ملی میٹر جبکہ مناواں میں 12 ملی میٹر تک بارش باضابطہ طور پر ریکارڈ کی گئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

صوبے کے دیگر اضلاع اور شہروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سیالکوٹ ایئرپورٹ کے علاقے میں 26 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 21 ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 15 ملی میٹر، ملک کے معروف پہاڑی تفریحی مقام مری میں 7 ملی میٹر، جڑواں شہر راولپنڈی میں 5 ملی میٹر، جبکہ صنعتی شہر فیصل آباد اور حافظ آباد میں 4, 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، جھنگ، ساہیوال، بھکر، شیخوپورہ اور جہلم کے اضلاع میں بھی ہلکی اور ٹریس (Trace) بارش کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی اور موسمیاتی ماڈلز کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ مزید مون سون بارشوں کا قومی امکان موجود ہے، اور بارشوں کا یہ چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست 2026ء تک وقفے وقفے کے ساتھ تسلسل سے جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بارشوں کے متوقع خطرات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب محمد سیف انور جپہ نے اپنے ایک خصوصی بیان میں آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت اور واضح ہدایات کے پیشِ نظر تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو 1122 اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام الناس سے پرزور اپیل کی ہے کہ شہری کچے، پرانے اور بوسیدہ مکانات و چھتوں کے نیچے ہرگز قیام نہ کریں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ آسمانی بجلی، تیز گرج چمک اور طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور بجلی کے کھمبوں و کھلے پانی سے دور رہیں۔ کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتِ حال، ریسکیو یا امداد کے لیے شہری پی ڈی ایم اے کی کنٹرول روم ہیلپ لائن 1129 پر فوراً رابطہ کر سکتے ہیں۔