
محمود احمد, August 29,2026
کاٹھمنڈو/لھاسا/اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء
جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال اور اس کے ہمسائے تبت کے سرحدی خطے میں بدھ کے روز گلیشیئر انہدام اور شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناکی میں ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکوں، پلوں، اور درجنوں پہاڑی دیہاتوں کو بہا لے جانے والے اس ناگہانی قدرتی آفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 623 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نیپالی حدود میں 2,000 اور تبت میں 550 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید دردناک اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپال اور تبت میں ہنگامی حالت نافذ کر کے مقامی ریسکیو اداروں، افواج اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بحالی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
نیپال پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیپالی حدود میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل نیپالی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی تھی، تاہم ملبے اور تباہ شدہ مکانات کی کھدائی کے دوران مزید لاشیں برآمد ہونے پر اعداد و شمار اپ ڈیٹ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تبت کی سرحد پر چینی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی دیہاتوں میں سیلاب کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے چینی شہریوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد تاحال بے نشان اور لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ڈرون اور ریسکیو کتوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے اس انسانی بحران کے تناظر میں بین الاقوامی برادری اور مختلف عالمی ممالک نے نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی کارروائیاں اور امداد کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے نیپار کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر 10 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک، طبی امداد اور صاف پینے کے پانی کی شدید اور اضطراری ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے متاثرین میں خیمے اور راشن کی تقیسم میں مصروف ہیں۔
دریں اثناء، یورپی یونین کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد اہم ممالک نے نیپال کے لیے کروڑوں ڈالر کے ہنگامی مالیاتی پیکج اور بنیادی امدادی سامان بھجوانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیپالی حکومت کی جانب سے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے اور سڑکیں تباہ ہو جانے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے لاپتہ 2,000 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے دن رات آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

