نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی دوسری لہر کا خطرہ، ہلاکتیں 332 ہو گئیں: ماہرین کی شدید تشویش

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال میں گلیشیئر انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرینِ ماحولیات نے مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 332 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نیپالی فوج، پولیس اور مقامی امدادی ٹیموں کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تریبھوون یونیورسٹی کے ‘سینٹر فار ڈیزاسٹر اسٹڈیز’ کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے عالمی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہمالیہ کے بالائی علاقوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آنے والے 24 سے 48 گھنٹوں میں سیلاب کی دوسری اور تیسری تباہ کن لہروں کا خدشہ موجود ہے، جو نچلے علاقوں کو دوبارہ لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے بتایا کہ اگرچہ فی الوقت میدانی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ رکا ہوا ہے، تاہم پہاڑی تودے اور چٹانیں کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے شدید خطرات بدستور برقرار ہیں جس سے ندی نالوں کے راستے مسدود ہو کر مزید تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ نیپالی ماہرین چین میں موجود سائنسدانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ہمالیہ کے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث پہاڑی خطوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے برف اور چٹانیں غیر مستحکم ہو کر اتنی بڑی تباہی کا سبب بنیں۔ دوسری جانب تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کا خطرہ: محکمہ موسمیات کا بالائی علاقوں کے لیے ہائی الرٹ اور شدید بارشوں کا انتباہ

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں جاری حالیہ موسمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ایک مقتدر انتباہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیر اور منگل کے روز ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور مقامی و برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی کا سنگین خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کی تزویراتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال میں بحیرۂ عرب سے آنے والی مضبوط مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی اور زیریں علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ اسی دوران ایک طاقتور مغربی لہر بھی ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

موقر پیشگوئی کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم عام طور پر گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی پنجاب، بالائی سندھ اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔ کل بروز منگل بھی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مقتدر حکام نے پہاڑی علاقوں کے مکینوں اور سیاحوں کو سفری احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے موسمی احوال کا احاطہ کرتے ہوئے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بالائی پنجاب، بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کے ساتھ چند مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیگر علاقوں میں موسم گرم رہا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ بارش پنجاب کے علاقے اوکاڑہ میں 29 ملی میٹر، سیالکوٹ (ایئرپورٹ) میں 01 ملی میٹر، بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 13 ملی میٹر، ژوب اور خضدار میں 02 ملی میٹر، گلگت بلتستان کے علاقے بابوسر میں 08 ملی میٹر، گوپس میں 04 ملی میٹر، بنجی میں 03 ملی میٹر، سکردو اور چلاس میں 02 ملی میٹر، استور میں 01 ملی میٹر، آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں 05 ملی میٹر، جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقے مالم جبہ میں 02 ملی میٹر اور کالام میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔