نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے اہم ٹیلی فونک رابطہ: دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

منصور احمد,September 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ شب ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کا احاطہ کیا۔

جمعرات کے روز دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین موجودہ باہمی تعلقات کی پیش رفت اور علاقائی سیکیورٹی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار اور حاقان فیدان نے مسئلہ فلسطین پر دونوں برادر اسلامی ممالک کے تاریخی و مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا اور مظلوم فلسطینیوں کی سفارتی تائید کا عزم دہرایا۔

اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات و کمپنیوں پر قدغنیں عائد کرنے کے برطانوی فیصلے کی تحسین کی اور اس ضمن میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کی مکمل حمایت کی۔ اس کے علاوہ دونوں وزرائے خارجہ نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل سے متعلق سامنے آنے والے مشترکہ اعلانات کا خیرمقدم کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں سفارتی رہنماؤں نے خطے کے دیگر اہم ممالک بالخصوص سعودی عرب اور مصر کے ساتھ اہم علاقائی مسائل پر مسلسل اور قریبی سیاسی و سفارتی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے چار ملکی ‘ریجنل فور’ (R4) فریم ورک کے ذریعے باہمی مشاورت اور مربوط حکمت عملی کو مزید آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔

بیان کے اختتام پر بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے امریکی شہر نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ سالانہ اجلاس کے موقع پر آمنے سامنے تفصیلی ملاقات کرنے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر دبنگ مؤقف: سلامتی کونسل سے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے خلاف فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ

محمود احمد, August 12,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک اور نازک صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور شدت اختیار کرتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے فوری و سخت عملی اقدامات کا مطالبات کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے مفصل اور جامع خطاب میں پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے کونسل کو فراہم کی گئی بریفنگز محض لفظی کارروائی یا کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کا بین الاقوامی تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزة میں پیش آنے والے واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طے شدہ، باہم مربوط اور دہائیوں پر محیط غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہیں جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو یکسر اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع بالخصوص ‘کرمسن تھریڈ’ منصوبے اور ای ون علاقے میں آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 1967ء کے بعد سے فلسطین میں بے دخلی کا سب سے بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے زمینوں کی رجسٹریشن اور انتظامی اختیارات پر ناجائز قبضہ درحقیقت عملاً الحاق کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی واضح مشاورتی آراء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے ٹیکس اور ریونیو کے اربوں روپے کی مسلسل روک تھام فلسطینی اداروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم سازش ہے، لہٰذا یہ رقم بغیر کسی تاخیر کے فوری اور مکمل طور پر جاری کی جانی چاہیے۔

مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کی مقدس صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس ترین جگہ پر مسلسل دھاوے اور اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے 24 جولائی اور 6 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تر اقدامات طاقت کے زور پر ایک نئی جغرافیائی صورتحال مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

غزہ کی انسانی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے انسانی تکالیف کو کم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کشیدگی اور روڈ میپ کو مسترد کرنا عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے جاری مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے واضح مطالبات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل تمام تر غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی قوانین بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو فی الفور بند کرایا جائے اور جرم کے مرتکب افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی صدر کے مطالبے کے مطابق فلسطینی عوام کو عالمی تحفظ فراہم کرنے اور بچوں کی حفاظت سے متعلق یونیسیف کی سفارشات پر فوراً عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور تمام اشتعال انگیز اقدامات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرایا جائے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا سختی سے سدباب کیا جائے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے انتباہ جاری کیا کہ اگر اسرائیل کی ان جارحانہ پالیسیوں کی سمت کو فوری نہ بدلا گیا تو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔