نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد معجزانہ ریسکیو: زیرِ زمین سرنگ سے 9 دن بعد دو افراد زندہ نکال لیے گئے

محمود احمد, September 04,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے ہولناک واقعے کے بعد ٹریشولی 3ہائیڈرو پاور منصوبے کی زیرِ زمین سرنگ میں پھنسے دو افراد کو نو دن کی طویل اور کٹھن جدوجہد کے بعد معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے، جسے عالمی و مقامی امدادی ٹیموں نے ایک غیر معمولی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔

نیپالی سرکاری حکام کے مطابق سرنگ سے باحفاظت نکالے گئے دونوں افراد کی شناخت سنجے شاہ اور کبیر مہرجن کے نام سے ہوئی ہے جو مذکورہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے ہی ملازم ہیں۔ دونوں افراد کو سرنگ سے نکالتے ہی فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مرکزی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس پیچیدہ اور خطرناک امدادی کارروائی میں بھارت کے سرنگ حادثے میں شہرت پانے والے آسٹریلوی ماہرِ ارضیات اور عالمی ٹنلنگ انجینیئر آرنلڈ ڈکس نے انتہائی اہم تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔ آرنلڈ ڈکس نے بتایا کہ ریسکیو عملے کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرنگ کے اصل داخلی راستے کا تعین کرنا تھا، کیونکہ سیلاب کے ساتھ آنے والے دیوہیکل ملبے اور چٹانوں نے پورے علاقے کی جغرافیائی ساخت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور پرانا راستہ گہرے ملبے تلے دب چکا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی ٹیموں نے پرانی انجینیئرنگ ڈرائنگز، لینڈ میپس، جدید سیٹلائٹ تصاویر اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی ڈرون ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ممکنہ راستے کا سائنسی تخمینہ لگایا، جس کے بعد مسلسل کھدائی کر کے کاوشوں کو بارآور بنایا گیا۔

آرنلڈ ڈکس نے اس کامیاب ریسکیو کو “معجزوں پر معجزہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ زمین پاور سٹیشن کے بعض حصوں میں ہوائی جیبیں موجود تھیں جنہوں نے آکسیجن اور زندگی کی رمق کو برقرار رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔