نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

Spread the love

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔