کاروباری برادری کا ساتھ دینے پر حکومت کا شکریہ، ملکی ترقی نجی شعبے کے تعاون سے ہی ممکن ہے: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل ترین معاشی حالات میں حکومتی پالیسیوں کا بھرپور ساتھ دینے پر ملک کی تاجر اور کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پاکستان کی اصل معاشی ترقی کی ضامن ہے۔

آئندہ مالی سال کے سالانہ گوشوارے پر صنعتکاروں سے مشاورت تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کی معروف صنعتکار اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے سالانہ مالیاتی گوشوارے (بجلی اور آمدنی کے تخمینے) کے حوالے سے جاری ملک گیر مشاورت کا حصہ تھی۔ اس اہم بیٹھک میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، نئی سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وزیراعظم نے معزز وفد کا وزیراعظم ہاؤس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ تاجر برادری ملک کے اصل سفیر ہیں جو پوری دنیا میں پاکستان کی تجارتی پہچان بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی لیے پالیسی سازی کے ہر عمل میں نجی شعبے کی مشاورت کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔

غیر دستاویزی معیشت کو سرکاری دائرے میں لانے کا عزم وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی غیر دستاویزی (غیر رسمی) معیشت کو سرکاری محصولاتی دائرے (ٹیکس نیٹ) میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث اب ملکی معیشت میں واضح استحکام آ رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا اصل مقصد ایسی صنعتوں کا فروغ ہے جن سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات بڑھیں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے شعبوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے مختلف تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام بھی جاری ہیں تاکہ انہیں روزگار کے بہتر اور جدید مواقع میسر آ سکیں۔

خصوصی تجارتی عدالتوں کا قیام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس اہم ملاقات کے دوران وفد کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سرکاری محصولات کے دیرینہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور ملک میں خصوصی تجارتی (کمرشل) عدالتوں کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے اندرونی حصوں تک رسائی کو آسان اور تیز بنانے کے منصوبے بھی آخری مراحل میں ہیں۔

تجارتی سامان کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت کا قومی منصوبہ سرکاری حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، ریلوے اور شاہراہوں (موٹرویز) کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے تجارتی سامان کی اندرون و بیرون ملک ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ حکومت ملک میں ‘مصنوعی ذہانت’ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی ایک قومی منصوبہ بھی تشکیل دے رہی ہے تاکہ مختلف پیداواری شعبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر لاگت کو کم کیا جا سکے Industrial cost۔

حکومتی معاشی پالیسیوں پر تاجر برادری کا بھرپور اعتماد ملاقات میں موجود کاروباری وفد نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، محصولاتی اصلاحات، برآمدی ترقیاتی اقدامات اور جمع شدہ سرکاری واجبات (ٹیکس ریفنڈز) کی بروقت ادائیگیوں کے حکومتی اقدامات کو دل کھول کر سراہا۔

کاروباری برادری نے حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتی ترقی، برآمدات میں ریکارڈ اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ اس اہم ترین ملاقات میں وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

پاکستان یورپی یونین کے ساتھ کثیر الجہتی شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واشنگٹن اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں جاری سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی کثیر الجہتی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا شدید خواہاں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین تجارتی، معاشی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو آنے والے دنوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔

دفترِ وزیراعظم میں اعلیٰ سطحی ملاقات اور شرکا وزیراعظم ہاؤس میں یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس سے ایک اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینیئر حکام بھی موجود تھے۔

تزویراتی مکالمے کے آٹھویں دور پر اطمینان کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جاری ‘تزویراتی مکالمے’ (اسٹریٹجک ڈائیلاگ) کے آٹھویں دور کے کامیاب انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت، نئی سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات، علاقائی سلامتی، ہجرت کے قوانین، پائیدار ترقی اور باہمی رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) سمیت مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

جی ایس پی پلس سہولت کی اہمیت اور برآمدات انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین مضبوط تجارتی تعلقات کے فروغ میں ‘جی ایس پی پلس’ (GSP Plus) سہولت کی کلیدی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس تجارتی رعایتی پروگرام نے یورپی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں اضافے اور دونوں خطوں کے معاشی روابط کو مستحکم بنانے میں ہمیشہ ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

خلیجی خطے میں امن اور عسکری و سفارتی قیادت کا کردار وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرنے پر یورپی یونین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت، بشمول نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا انتہائی اہم اور تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پڑوسی ملک افغانستان سے متعلق امور اور مختلف دیگر پیچیدہ علاقائی و عالمی معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یورپی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو دل کھول کر سراہا اور پاکستان کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے میں یورپی یونین کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔