

محمود احمد, August 16,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ٹیرف اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل، کینیڈا، میکسیکو، اور یورپی یونین سمیت چالیس سے زائد مختلف ممالک کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک معاون کی تیار کردہ خصوصی رپورٹ شیئر کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی ترسیل اور ری برانڈنگ کے ذریعے سالانہ چالیس ارب سے لے کر تین سو تین ارب ڈالر تک کی ٹیکس چوری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ سال دو ہزار اٹھارہ میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے تیزی سے بڑھا ہے، جس کے تحت چینی سامان پر دوبارہ لیبل لگائے جاتے ہیں، ان کی نئی پیکنگ اور تھوڑی بہت پروسیسنگ کی جاتی ہے، اور رسیدوں میں تبدیلی کر کے سامان کا اصل ماخذ چین کے بجائے کسی اور ملک کو ظاہر کر دیا جاتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی اور مبینہ تجارتی ہیر پھیر کی وجہ سے امریکہ میں اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ روزگار کے مواقع اور ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس اور سالانہ قومی مجموعی ملکی پیداوار کی مد میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین جن دیگر ملکوں کی سرحدوں اور تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے ان میں جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار جیسے ممالک شامل ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اب مختلف ممالک پر براہِ راست ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ان تمام قانونی اور انتظامی خامیوں کو بند کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے جن کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی درآمد کنندگان امریکی ملازمین، مقامی صنعت کاروں اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچا کر اپنا سامان مارکیٹ میں کھپا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر کے اس بیان اور جاری کردہ رپورٹ پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی اور ایران سے متعلق کشیدگی کی ناکامیوں اور معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹیرف جنگ کا پرانا موقف دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ عالمی امور اور معاشی مسائل کے نامور امریکی ماہر پروفیسر جیفری سیکس نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ معاشی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی مصنوعات اور ان کی عالمی سپلائی چین کے بغیر موجودہ دور میں دنیا کا نظام چلانا ممکن نہیں رہا، اور اگر امریکی یا بین الاقوامی تاجر سستی مصنوعات کے لیے کسی تیسرے ملک میں پروسیسنگ کرتے ہیں تو اس کا تمام تر ملبہ بیجنگ پر ڈالنا نامناسب ہے۔
معاشی ماہرین نے مزید کہا کہ غلط معاشی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کی وجہ سے آج عام امریکی شہری کے لیے خوراک، بنیادی ضروریات، رہائش اور نقل و حرکت کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت کا تمام تر فوکس معاشی اصلاحات کے بجائے سیاسی مقاصد اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے نجی فوائد حاصل کرنے پر مرثوز ہے، جس کی قیمت امریکی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ تاھم چین اور دیگر نامزد کردہ چالیس سے زائد ممالک کی حکومتوں کی جانب سے فی الحال اس امریکی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر کوئی باقاعدہ یا حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔