سفیر عاصم افتخار احمد کا ہیٹی کی قیادت میں سکیورٹی کاوشوں کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ

محمود احمد, August 29,2026

اقوام متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے کیریبین ملک ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگ کے حالیہ دلخراش اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہیٹی میں ہیٹی کی اپنی قیادت میں جاری سکیورٹی کاوشوں کی بھرپور معاونت کرے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ گینگ سپریشن فورس کی بروقت، مؤثر اور مکمل تعیناتی کے لیے درپیش تمام انتظامی، مالی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہیٹی کی کی تشویشناک سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ ہولناک حملے ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری، ابتر اور نہایت تشویشناک سکیورٹی صورتِ حال کی ایک سنگین اور تلخ یاد دہانی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود وہاں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ یا پائیدار بہتری نہیں آ سکی، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے سامنے ہیٹی کے معصوم شہریوں کی تکالیف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “حالیہ واقعہ ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل اور سنگین سکیورٹی صورتِ حال کی ایک تلخ اور واضح یاد دہانی ہے۔ گینگ کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر کیے جانے والے یہ ہولناک اور پرتشدد حملے خواتین اور معصوم بچوں کو غیر متناسب طور پر اور سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا ہوگا”۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ برس ہیٹی کے حکام کی مدد کے لیے منظور کی جانے والی \ کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس فورس کی بلا تاخیر اور مکمل تعیناتی کے ساتھ ساتھ ہیٹی میں غیر قانونی اسلحے، بارود اور ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانا بے حد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی اسلحے کی رسد کا خاتمہ کیے بغیر گینگ تشدد کی مؤثر روک تھام اور عوام میں سکیورٹی و تحفظ کا بنیادی احساس بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس مشکل اور نازک وقت میں ہیٹی کے عوام اور حکومت کی معاونت کے لیے عالمی برادری کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے بحران کے ایک پائیدار، دیرپا اور جامع حل کے لیے وہاں جاری عدم استحکام کے بنیادی، کثیرالجہتی اور تاریخی اسباب سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جو ‘ہیٹی کی قیادت میں اور ہیٹی کی ملکیت’ پر مبنی ہو۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ “ہم کی عملی کارروائیوں کے لیے عالمی معاونت کو متحرک کرنے اور ہیٹی میں جاری طویل المدت تشدد کی بنیادی وجوہات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع تخفیفِ اسلحہ، عدم مسلح کاری اور بحالیِ نو کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں شراکت داروں کے ‘اسٹینڈنگ گروپ’ کی کاوشوں اور اقدامات کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں”۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے ہیٹی کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہیٹی میں دیرپا امن کی بحالی، سکیورٹی کے قیام، استحکام، تعمیرِ نو، اور ترقی و خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور ہیٹی کی قیادت کے ساتھ مل کر اپنا مثبت، فعال اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔

یوکرین میں فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کی بحالی پر زور: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم مطالبہ

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کے دو بڑے اقتصادی و انتظامی مراکز اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ایک جدید ترین ہائی سپیڈ ریل کوریڈور قائم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان سفری وقت کو نصف سے بھی کم کرنا اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم اور تاریخ ساز منصوبے کی منظوری وفاقی کابینہ اور قومی اقتصادی کونسل کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق اس جدید ریلوے ٹریک کی کل لمبائی تقریباً تین سو پچاس کلومیٹر ہو گی اور اس پر دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی بلٹ ٹرین ٹائپ ہائی سپیڈ ٹرینیں چلائی جائیں گی، جس کی بدولت اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ محض پونے دو سے دو گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہو سکے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف عام مسافروں، تاجروں اور سرکاری حکام کو سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ موٹروے اور جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کے دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ وزاتِ ریلوے اور مواصلات کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے جسے بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی اداروں کی شراکت داری نیز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی، جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ کے قریب بھی جدید انٹرچینج اسٹیشن بنائے جائیں گے تاکہ ملحقہ علاقوں کی آبادی بھی اس تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ مواصلات نے بتایا کہ یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کا ایک عظیم تحفہ ہو گا جو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں تزی لانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے لیے جدید اور صاف ستھری گرین انرجی یعنی سولر اور الیکٹرک پاور سسٹم کا استعمال کیا جائے گا تا کہ ایندھن کے درآمدمی بل پر بھی قابو پایا جا سکے اور ماحولیات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ منصوبے کا پہلا فیز تین سال کے عرصے میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لیے زمین کے حصول اور سروے کا کام رواں سال کے آخر تک شروع کر دیا جائے گا۔ معاشی ماہرین اور تجارتی برادری نے اس منصوبے کو ملک کے ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں ایک شاندار انقلاب قرار دیتے ہوئے اس کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کی اندرونی تجارت، سیاحت اور صنعتی نقل و حمل کو بے پناہ استحکام حاصل ہو گا۔

سوڈان کا بحران: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا پائیدار امن کے لیے سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسلسل رابطہ کاری، بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ سوڈان میں پائیدار امن کی بحالی صرف اور صرف سوڈانی قیادت اور سوڈانی ملکیت میں چلنے والے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے دارفور، کردفان اور بالخصوص العبید کی ابتر ہوتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے عسکری رویے اور بڑھتی کشیدگی کو دارفور، الجنینہ اور الفاشر میں ہونے والے مظالم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا خامیانہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ایک متحد، مستحکم اور خودمختار سوڈان نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پورے افریقہ کے امن و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے فوری طور پر جدہ اعلامیے پر عملدرآمد یقینی بنائے اور بلا رکاوٹ امداد کی رسائی ممکن بنائے۔ سفیر عاصم افتخار نے کونسل پر واضح کیا کہ ایک خودمختار ریاست کی قومی مسلح افواج اور نسل کشی کے التزامات کا سامنا کرنے والی ملیشیا کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے اور سوڈان کی تقسیم یا متوازی حکومت قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کی جائے۔