پمز ہسپتال میں آتشزدگی سانحہ: انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ٹریننگ کے فقدان پر سنسنی خیز انکشافات

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنسنی خیز اور سنگین انکشافات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پمز ہسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے کسی قسم کی ایمرجنسی فائر ڈرل یا موک ایکسرسائز کی مشق ہی نہیں کروائی گئی تھی، جس کے باعث ہسپتال کا طبی و انتظامی عملہ ہنگامی صورتحال میں اپنی اور زیرِ علاج مریضوں کی جان بچانے کی بنیادی عملی تربیت سے مکمل طور پر محروم تھا۔ بین الاقوامی قوانین اور طبی ضوابط کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں عملے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کی باقاعدہ ٹریننگ کروانا لازمی اور فلو چارٹ کا حصہ ہوتا ہے، جس میں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردِعمل، مریضوں کو بحفاظت نکالنے (ایویکویشن) اور آگ پر قابو پانے کی عملی مشقیں شامل ہوتی ہیں، تاہم پمز میں ان قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔

صحافتی ذرائع کا مزید سنسنی خیز انکشاف یہ بھی ہے کہ آتشزدگی کے وقت وارڈ میں موجود آکسیجن سلنڈرز اور آکسیجن پائپ لائنز بھی آگ کی شدت میں تیزی سے اضافے کا بنیادی باعث بنے، جنہوں نے نرسری کے پورے ماحول کو منٹوں میں جہنم کا منظر بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کے وقت ہسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹ (نہایت ضروری راستے) اور ہنگامی نُکاس کے دروازے بند رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے مریضوں، والدین اور عملے کو نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب نرسری میں آگ بھڑکی تو ہسپتال کا خودکار الارم سسٹم بھی بروقت فعال اور سائرن بجانے میں ناکام رہا، جس نے انتظامی غفلت کی حد کر دی ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں شدید بیمار مریض زیرِ علاج رہتے ہیں، لیکن ہنگامی انخلا کے لیے کسی مربوط اور مؤثر سیفٹی پلان کا نہ ہونا مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس سانحے کے بعد ماہرین نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کے فائر سیفٹی سسٹمز، ایمرجنسی راستوں اور عملے کی ٹریننگ کا بلا تاخیر ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی ہولناک سانحے کو دوہرانے سے روکا جا سکے۔

پمز ہسپتال سانحہ: متاثرہ والدین کے سنگین الزامات، عملہ غائب تھا، 9 بچوں کی میتیں حوالے کر دی گئیں

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے سانحے کے بعد متاثرہ والدین نے ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر مجرمانہ غفلت اور عدم موجودگی کے شدید اور سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ میڈیا اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آتشزدگی سے متاثرہ ایک خاتون نے رقت انگیز انداز میں بتایا کہ جس وقت نرسری اور وارڈ میں آگ لگی اور دھواں پھیلا، اس وقت ہسپتال کا عملہ بالکل غائب تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کے وقت صرف وہ اور چند دیگر بچوں کے والدین ہی وہاں موجود تھے جبکہ موقع پر نہ تو کوئی گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی نرسنگ سٹاف کا کوئی اہلکار بچوں کی مدد کے لیے وہاں موجود تھا، جس کی وجہ سے نومولود بچوں کو بروقت باہر نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے تازہ ترین بیان کے مطابق، جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے نو نومولود بچوں کی لاشیں ابتدائی کارروائی کے بعد ان کے لواحقین اور غمزدہ خاندانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی بچوں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے لاشوں اور والدین کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے باوثوق ذرائع نے واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نرسری میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ محض آگ سے جھلسنا نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے بعد ایئر کنڈیشنر اور آکسیجن پائپ لائن کے باعث وارڈ میں تیزی سے زہریلا دھواں بھر جانا تھا، جس سے نوزائیدہ بچوں کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی والدین کے الزامات کو بھی انکوائری کا حصہ بنا رہی ہے اور غفلت برتنے والے عملے کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی اور محکماتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔