چین نے کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ سیڑھی بنا کر دی ہے: ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤ ننگ

محمود احمد, September 10,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

چین کی حکومت نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں پیچھے دھکیلنے کے بجائے معاشی، صنعتی، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شفاف تعاون اور معاونت فراہم کرنے کی مستقل پالیسی پر گامزن ہے۔ چین کی جانب سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے تاریخ میں کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ دنیا کے ترقی پذیر اور ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے معاشی ترقی کی نئی راہ ہموار کی ہے اور ان کی صنعتی صلاحیتیں بہتر بنانے میں عملی مدد فراہم کی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ تمام تر تفصیلات گزشتہ روز دارالحکومت بیجنگ میں معمول کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک بین الاقوامی صحافی کے سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے بیان کیں۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ کی عالمی معاشی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چین نے نہ تو کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ کھینچی ہے اور نہ کبھی ایسا کرے گا، بلکہ اس کے برعکس چین دنیا کے تمام شراکت دار اور کمزور ممالک کے لیے معاشی و صنعتی ترقی کی نئی ’’سیڑھی بنانے‘‘ کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اعلیٰ معیار اور عالمی معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) تعاون کے مضبوط فریم ورک کے ذریعے اپنے تمام شراکت دار ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی کو دور کرنے کے لیے مسلسل اور فعال مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اعلیٰ ترین معیار اور مناسب ترین قیمت کے صنعتی آلات، جدید سائنسی و تکنیکی مصنوعات کی فراہمی کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط معاشی تجربات اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بھی شراکت دار ممالک کے ساتھ بلا جھجھک شیئر کر رہا ہے۔

ترجمان نے چین کی اس عالمی پالیسی کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے ان مخلصانہ اور شفاف اقدامات سے گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک کو اپنی صنعتی و پیداواری لاگت نمایاں حد تک کم کرنے، قومی پیداواری صلاحیت کو تیزی سے بڑھانے اور اپنی آزادی کے ساتھ صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے میں زبردست اور پائیدار مدد مل رہی ہے۔

آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک اہم ترین آبی گزرگاہ ہے؛ محفوظ اور آزاد آمد و رفت کی بحالی تمام فریقین کے مفاد میں ہے

محمود احمد, JULY 13,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

چین نے عالمی سطح پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تزویراتی معاملے کو مناسب اور ذمہ دارانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ چینی میڈیا گروپ سی جے ٹی این کے مطابق، یہ بات چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِین جیان نے پیر کے روز بیجنگ میں منعقدہ یومیہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے جسے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اس حساس تجارتی گزرگاہ سے محفوظ اور آزاد آمد و رفت کی جلد بحالی تمام متعلقہ فریقین کے بہترین معاشی و تزویراتی مفاد میں ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پیدا ہونے والے تمام معاملات کو انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں حل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس حوالے سے عالمی برادری کے وسیع تر خدشات کو بھی مناسب طریقے سے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اظہار کیا کہ چین خطے کے امن اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اس اہم معاملے پر متعلقہ ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی و مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔