کویت کی ‘احمد الجابر’ اور امارات کی ‘المنہاد’ ایئر بیسز پر ایران کے تباہ کن میزائل و ڈرون حملے: امریکی سیکیورٹی و مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 03,2026

تہران/کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

خلیجی خطے میں برپا تباہ کن عسکری محاذ آرائی میں ایران نے پے در پے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں قائم معروف امریکی عسکری مرکز ‘احمد الجابر ایئر بیس’ اور متحدہ عرب امارات کی ‘المنہاد ایئر بیس’ پر سنگین اور تباہ کن میزائل و ڈرون حملے کیے ہیں۔

ایرانی افواج کے شعبہ دفاع و تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری کردہ باضابطہ عسکری اعلامیے کے مطابق، ایرانی سپاہ اور بری فورسز نے جدید بیلسٹک و کروز میزائلوں اور بارود سے لیس ’انتحاری‘ ڈرونز کی مدد سے کویت میں واقع ‘احمد الجابر ایئر بیس’ پر قائم اہم امریکی سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، عسکری آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے بم پروف ہینگروں کو براہِ راست اور کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی افواج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اچانک اور جرات مندانہ حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے حساس ترین سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، ڈیٹا سنٹرز اور متعدد جدید لڑاکا طیاروں کی بیرکس اور ہینگرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اسی تسلسل میں ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا، جہاں امریکی عسکری اہلکاروں کی رہائش گاہوں، بیرکس اور الرٹ پر موجود اعلیٰ طاقت والے ریڈار سسٹمز کو یک مشت تباہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، ان ایرانی دعووں سے چند ہی لمحے قبل کویتی افواج کے کمانڈر انچیف اور وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں تصدیق کی تھی کہ ایران کی سمت سے آنے والے درجنوں مشتبہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے کویت کا قومی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال اور آپریشنل کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

چین اور کویت کے دوطرفہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر لے جانے کا عزم: بیجنگ میں نائب صدر ہان ژینگ اور کویتی وزیرِ خارجہ کی ملاقات

محمود احمد, August 24,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے بیجنگ میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، ملاقات کے دوران چینی نائب صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی سٹریٹجک رہنمائی میں چین اور کویت کے تعلقات مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ برسوں میں مختلف تجارتی، معاشی اور سفارتی شعبوں میں تعاؤن میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ چین کویت کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو مزید اعلیٰ سطح پر لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔ نائب صدر ہان ژینگ نے مزید کہا کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں دائمی امن و سکون کی بحالی کے لیے خطے کے تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن مذاکرات اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے عالمی اور علاقائی مسائل پر چین کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور چین کی جانب سے کویت کی مسلسل حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کویت ‘ایک چین’ کے اصول پر مضبوطی سے قائم ہے۔ کویتی وزیرِ خارجہ نے عزم ظاہر کیا کہ کویت چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں نئے اور وسیع امکانات پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر مبارکباد، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں علاقائی صورتحال، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تازہ ترین پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے انعقاد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خصوصی مبارکباد پیش کی اور اس پیش رفت کو علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے مابین تاریخی و برادرانہ دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔

مزید برآں، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر باہم مشاورت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔