Latest news

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کو شکست دینے کے لیے امریکہ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں

Spread the love

محمود احمد, October21,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کو شکست دینے کے لیے کسی دوسرے ملک کی مدد کا محتاج نہیں اور واشنگٹن اپنی فوجی و سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب امریکی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری تنازع کو کس طریقے سے آگے بڑھایا جائے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے معاملے میں بہت اچھی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو صرف یہ طے کرنا ہے کہ وہ کس انداز میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول، امریکہ کے سامنے یہ انتخاب موجود ہے کہ وہ مطلوبہ نتائج نسبتاً بہتر طریقے سے حاصل کرے یا زیادہ سخت اور ناخوشگوار راستہ اختیار کرے۔

ٹرمپ نے اپنی فوجی اور سیاسی پوزیشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائیوں میں کسی دوسرے ملک کی مدد درکار نہیں۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ واشنگٹن آئندہ کے لیے کون سا مخصوص منصوبہ اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے یا اس کی حکمتِ عملی میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں۔

متعدد ممالک سے مدد لینے کی کوشش کا دعویٰ

امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے مختلف ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سے رابطہ کیا تھا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ ایران کے معاملے میں امریکہ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، ان رہنماؤں نے مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کے ذریعے وہ دوسرے ممالک کے ردعمل کو جانچنا چاہتے تھے۔ ان کے بقول، انہوں نے مختلف عالمی رہنماؤں سے پوچھا کہ کیا وہ اس معاملے میں امریکہ کا ساتھ دینا چاہیں گے، لیکن انہیں منفی جواب ملا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے ان ممالک یا رہنماؤں کے نام ظاہر نہیں کیے جن سے انہوں نے رابطہ کیا تھا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ان سے کس نوعیت کی مدد طلب کی گئی تھی، آیا اس میں فوجی تعاون شامل تھا یا سفارتی اور دیگر معاونت بھی زیرِ غور تھی۔

ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ایران کے معاملے میں دیگر ممالک کے ممکنہ کردار پر بات کر رہے ہیں، لیکن ان کے دعوے کی مزید تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث یہ واضح نہیں کہ کن حکومتوں نے کس بنیاد پر تعاون سے انکار کیا۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا

ٹرمپ کا بیان اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے امریکی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ویڈیو میں نیتن یاہو کو ٹرمپ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ان کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا اور دونوں رہنماؤں کو اسے مل کر آگے بڑھانا ہوگا۔

نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ کام ان دونوں کے علاوہ کوئی اور مکمل نہیں کر سکتا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی قیادت ایران کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔

تاہم ویڈیو میں سامنے آنے والے بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ کے لیے کون سے مخصوص فوجی یا سیاسی اقدامات طے پائے ہیں۔ کسی مشترکہ منصوبے، کارروائی کے شیڈول یا نئی حکمتِ عملی کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے معاملے پر تعاون خطے کی صورتِ حال میں اہم حیثیت رکھتا ہے، لیکن دونوں ممالک کے بیانات اور عملی اقدامات کا جائزہ الگ الگ لینا ضروری ہے۔

آبنائے ہرمز کی پابندیاں اور ایندھن کی قیمتیں

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی شہری پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ناخوش ہیں، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد کے مقابلے میں یہ قیمت معمولی ہے۔

ٹرمپ نے اس مؤقف کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی پالیسی کو قومی اور عالمی سلامتی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ایک اہم مقصد ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اس گزرگاہ میں جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کے اثرات درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے علاوہ عام صارفین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

تاہم ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات صرف ایک واقعے تک محدود نہیں ہوتیں۔ عالمی طلب و رسد، علاقائی کشیدگی، ترسیلی اخراجات اور دیگر معاشی عوامل بھی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

آئندہ حکمتِ عملی پر سوالات برقرار

صدر ٹرمپ کے تازہ بیان کے باوجود ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کے اگلے مرحلے سے متعلق کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔ انہوں نے ایک طرف امریکہ کی خود انحصاری اور بہتر پوزیشن پر زور دیا، جبکہ دوسری جانب متعدد عالمی رہنماؤں سے رابطوں اور ان کی جانب سے مبینہ انکار کا ذکر بھی کیا۔

یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن آئندہ فوجی کارروائیوں، سفارتی دباؤ یا مذاکرات میں سے کس راستے کو ترجیح دے گا۔ اسی طرح ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتِ حال بھی خطے کے مستقبل پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایران کو شکست دینے، دوسرے ممالک کی جانب سے مدد سے انکار اور امریکی پوزیشن سے متعلق بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں پر مبنی ہیں۔ جن عالمی رہنماؤں سے رابطوں کا ذکر کیا گیا، ان کے نام اور گفتگو کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، جبکہ آئندہ امریکی حکمتِ عملی کے بارے میں بھی کوئی حتمی اعلان فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔

ماخذ: وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کا میڈیا سے خطاب، بنیامین نیتن یاہو کی جاری کردہ ویڈیو، ایرانی امور سے متعلق دستیاب اطلاعات