پاکستان نے طویل المدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کر دیا، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب کا اہم خطاب

Spread the love

محمود احمد june 02,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، ان جنگوں کے خطرناک اثرات اب مخصوص سرحدوں سے تجاوز کر کے دیگر پرامن ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اور مستقل مندوب کا بیانیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طویل المدتی تنازعات فریقین کے مابین شدید غلط فہمیوں، تزویراتی کشیدگی اور بڑے تصادم کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی استحکام داؤ پر لگ جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یوکرین تنازع پر پاکستان کا اصولی موقف انہوں نے یوکرین کے دیرینہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کے روایتی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فریقین کے مابین تعمیری مکالمے، فعال سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نازک صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی اس بحران کو ایک وسیع تر اور تباہ کن تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے، جس کے بھیانک اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

ریاستوں کی خودمختاری اور مسلح ڈرونز کی دراندازی پر تشویش پاکستانی مندوب نے دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی اصول بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کی بنیاد ہیں اور ان پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں مسلح ڈرونز کی مبینہ دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی قوانین کا چیلنج سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جدید جنگوں میں ریموٹ کنٹرول ڈرونز کے بڑھتے ہوئے اندھا دھند استعمال نے نئے انسانی اور قانونی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں بھی اس بات پر سخت زور دیا کہ جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال میں معصوم انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

جائز سلامتی مفادات کا تسلیم کیا جانا ناگزیر پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین تنازع کے مستقل حل کے لیے تین بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنا، اقوامِ متحدہ کے منشور کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنا اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو تنازع کے حل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کی جلد اور غیر مشروط بحالی پر زور دیا۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محض عسکری ذرائع یا جنگی طاقت کسی بھی خطے میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کر سکتے، جبکہ بامعنی، سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے فوراً اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے پرخلوص اپیل کی کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے راستے کی طرف واپس آئیں۔