

کاشف عباسی , September 22,2026
راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 نومبر 2024ء کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو 25 ستمبر کو سنایا جائے گا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی حتمی سماعت کی، جس کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے استغاثہ کی جانب سے اپنے دلائل مکمل کیے۔
استغاثہ نے سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان نے 26 نومبر کے احتجاج کی منصوبہ بندی اور کارکنوں کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحرک کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق علیمہ خان نے 22 نومبر 2024ء کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد میڈیا کے ذریعے لوگوں کو احتجاج میں شرکت کی ترغیب دی اور 21 نومبر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس احتجاج کے نتیجے میں پرتشدد واقعات پیش آئے، ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوا جبکہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جس کی تائید کے لیے ویڈیوز، بیانات اور فرانزک رپورٹ بطور شواہد پیش کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب، علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے موکلہ کی عدم موجودگی میں کارروائی مکمل کرنے پر اعتراض اٹھایا اور عدالت سے اپنی موکلہ کو پیش کرنے کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست بھی دائر کی، تاہم عدالت نے اس روز کے لیے علیمہ خان کی جانب سے دائر کی گئی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی۔ استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ تھانہ صادق آباد میں درج اس مقدمے میں عدالت پیش کردہ شواہد اور فریقین کے دلائل کی بنیاد پر 25 ستمبر کو اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کے ریکارڈ پر مبنی ہے۔ 25 ستمبر کو عدالتی فیصلہ سامنے آتے ہی پورٹ اپ ڈیٹ کر دی جائے گی۔
ماخذ: لیگل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز راولپنڈی۔