Latest news

حوثی حملوں کے خلاف دفاع: برطانیہ کا سعودی عرب کے لیے فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے کی تعیناتی کا اعلان

Spread the love

محمود احمد, September 22,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء

برطانیہ نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کو محدود دفاعی معاونت فراہم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت برطانوی رائل ایئر فورس کا جدید ترین ’’وائجر‘‘ فضائی ایندھن بھرنے والا طیارہ (Air-to-Air Refueling Aircraft) خطے میں تعینات کیا جائے گا، جو سعودی جنگی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن کی فراہمی یقینی بنائے گا۔

برطانوی وزیرِ دفاع لیوک پولارڈ کے مطابق یہ اقدام سعودی حکومت کی جانب سے موصول ہونے والی باضابطہ درخواست کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ رائل ایئر فورس کا وائجر طیارہ قبرص میں واقع برطانوی فوجی اڈے (RAF Akrotiri) سے اپنے مشنز آپریٹ کرے گا اور آنے والے دنوں میں فضائی ایندھن کی فراہمی کا آغاز کر دے گا۔ برطانوی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ طیارہ حوثیوں کے خلاف کسی براہِ راست تلافی یا ہجوم پر بمباری میں حصہ نہیں لے گا بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف سعودی حدود و توانائی انفراسٹرکچر کے دفاع کے لیے پرواز کرنے والے سعودی جیٹس کی معاونت تک محدود رہے گا۔

یہ دفاعی تعاون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے بالخصوص سعودی دارالحکومت ریاض اور دیگر شہری و معاشی تنصیبات پر ڈرون اور گائیڈڈ میزائل حملوں کے دعوے کیے ہیں، جن میں سے متعدد کو سعودی ایئر ڈیفنس سسٹم نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ برطانیہ نے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔ یمن میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری اس تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے سے بحیرۂ احمر اور باب المندب کی بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر تشویشناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر برطانوی وزارتِ دفاع کے باضابطہ بیان اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کردہ تفصیلات پر مبنی ہے۔ برطانوی فوج کی اس محدود تعیناتی کی مدت کا جائزہ آنے والے ہفتوں میں دوبارہ لیا جائے گا۔

ماخذ:
برطانوی حکومت (GOV.UK)، رائٹرز، برطانوی وزارتِ دفاع۔