

کاشف عباسی ,October07,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے صوابی پہنچنے پر آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد سیاسی سرگرمیوں کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کے اگلے مرحلے کا منصوبہ فی الحال سامنے نہ آنے کے باعث مخالفین پریشان ہیں۔
ضلع خیبر کے باڑہ بازار میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف ہر روز نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ ان کے بقول، ’’اس بار فکسڈ میچ نہیں ہوگا، میدان میں مقابلہ کریں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوابی میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت ایک نئے سیاسی مرحلے کا آغاز ثابت ہوگی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق لانگ مارچ جمعرات 8 اکتوبر کو پشاور سے آگے بڑھے گا اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا چارسدہ کی جانب روانہ ہوگا۔ تحریک انصاف کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق قافلے کی سرگرمیوں کا اگلا مرحلہ پشاور اور چارسدہ کے راستے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بعد میں صوبے کے مختلف علاقوں سے آنے والے کارکنان کو ایک مقام پر جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ مکمل طور پر پرامن رہے گا اور شرکا کسی غیر آئینی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف اپنی سیاسی جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رکھے گی۔
تحریک انصاف کے مطابق لانگ مارچ کے بنیادی مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات کی فراہمی، وکلا اور رفقا سے ملاقات کی اجازت اور مقدمات کے فیصلوں میں بلاجواز تاخیر کا خاتمہ شامل ہے۔ پارٹی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان نئی مشاورت اور سکیورٹی پالیسی پر نظرثانی سمیت دیگر مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔
لانگ مارچ کا موجودہ مرحلہ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع کیا گیا تھا، جس کے دوران قافلہ مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا پشاور اور چارسدہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پارٹی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ آئندہ مرحلے کا حتمی لائحہ عمل بعد میں طے کیا جائے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سہیل آفریدی کے سیاسی بیانات اور لانگ مارچ سے متعلق دعوے ان سے منسوب کیے گئے ہیں۔ آئندہ مرحلے، شرکا کی تعداد یا مارچ کے سیاسی اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ اس وقت اخذ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا انحصار آئندہ کے فیصلوں اور زمینی صورتحال پر ہوگا۔
ماخذ: ڈیلی انتخاب، تحریک انصاف کا جاری کردہ شیڈول، دیگر دستیاب میڈیا رپورٹس