

منصور احمد,October09,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء
نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے آج نوبل امن انعام کا اعلان کیا جانا ہے، اور اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس اعزاز کے لیے نامزد کیا تھا۔
وزیرِ اعظم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کو فروغ دینے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت نے پاکستان اور بھارت کو کشیدگی کے دہانے سے واپس لانے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے میں مدد دی، جو آج تک برقرار ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا، اور خلوصِ دل سے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن کے فروغ اور تنازعات کی روک تھام کے لیے صدر کی کوششوں کو اس بار مناسب پذیرائی ملے گی۔
اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ گزشتہ برس جون میں حکومتِ پاکستان نے ایک اعلامیہ جاری کر کے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ لڑائی کے دوران صدر ٹرمپ کی “فیصلہ کن سفارتی مداخلت اور قائدانہ کردار” کے اعتراف میں انہیں 2026ء کے نوبل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کرنے کی سفارش کی جا رہی ہے۔ یہ اعلان اس چار روزہ فوجی کشیدگی کے بعد سامنے آیا تھا جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک مہلک عسکری حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا تھا۔
اس نامزدگی کے وقت صدر ٹرمپ نے خود بھی کہا تھا کہ انہیں مختلف عالمی تنازعات میں کردار کے باوجود نوبل امن انعام نہیں ملے گا۔ دوسری جانب بھارتی حکام اس مؤقف کی تردید کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کا کوئی کردار تھا؛ ان کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی ان کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ہوئی۔ نوبل امن انعام کا فیصلہ ناروے کی نوبل کمیٹی کرتی ہے، جبکہ نامزدگی کا حق ریاستی عہدیداروں، ججوں، جامعات کے پروفیسروں، سابق انعام یافتگان اور تسلیم شدہ امن تنظیموں کے اراکین جیسے اہل افراد کو حاصل ہوتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
وزیرِ اعظم کا یہ بیان نوبل امن انعام کے اعلان سے قبل جاری ہوا ہے اور اس میں انعام کے نتیجے سے متعلق کوئی معلومات شامل نہیں؛ انعام کا حتمی فیصلہ مکمل طور پر ناروے کی نوبل کمیٹی کا اختیار ہے۔ جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کے کردار پر پاکستان اور بھارت کے مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے، اور اس خبر میں دونوں فریقوں کا مؤقف بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ایکس بیان،