

منصور احمد,October10,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی مداخلت کے باعث خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی عمل داری کمزور ہو چکی ہے اور صوبے میں عملاً گورنر راج جیسی صورتِ حال ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ مسائل حل کرنے کے بجائے بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کے نزدیک صوبے میں عملاً گورنر راج نافذ ہے اور صرف اس کا باضابطہ اعلان باقی ہے۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے؛ فراہم کردہ بیان میں صوبے میں گورنر راج کے باضابطہ نفاذ کی تصدیق نہیں کی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت پر تمام فریق متفق ہیں، تاہم اختلاف اس بات پر ہے کہ اس مقصد کے لیے کون سی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی اور وفاقی حکومت، دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے سیاسی و سکیورٹی مسائل میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال سے ملاقاتوں کی بندش برقرار ہے اور اس معاملے میں نرمی سے سیاسی ماحول بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے تین وزرا سمیت نو اراکینِ صوبائی اسمبلی اور آٹھ اراکینِ قومی اسمبلی کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنیں اور ایک کزن جیل میں ہیں۔ ان دعوؤں کے حوالے سے فراہم کردہ متن میں حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت، مقدمات یا متعلقہ حکام کا مؤقف شامل نہیں ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے ملکی قیادت پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات میں سخت مؤقف اختیار کرنے کے بجائے مفاہمت اور سیاسی بصیرت سے کام لے۔ ان کے بقول سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور باہمی تعاون ضروری ہیں۔
بیرسٹر گوہر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں سکیورٹی پالیسی، صوبائی اختیارات اور عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے کو سیاسی مذاکرات کے اہم نکات کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ تاہم، ان معاملات پر وفاقی حکومت یا دیگر متعلقہ فریقوں کا مؤقف اس فراہم کردہ متن میں موجود نہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
گورنر راج کے عملی نفاذ سے متعلق بیرسٹر گوہر کا بیان ان کا سیاسی دعویٰ ہے، باضابطہ آئینی صورتِ حال کی تصدیق نہیں۔ حراستوں اور ملاقاتوں پر پابندیوں سے متعلق دعوؤں کی مکمل تصویر کے لیے متعلقہ حکام کا مؤقف اور دستیاب سرکاری ریکارڈ بھی اہم ہیں۔
ماخذ: فراہم کردہ بیان