

کاشف عباسی ,October11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر مبینہ حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعے میں چھ پاکستانی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
اتوار کو جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ شہری آبادی اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق ایسے حملوں سے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ زخمی پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ شہریوں کی ضروریات کا خیال رکھنا اور انہیں درکار مدد کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
تاہم فراہم کردہ بیان میں زخمی پاکستانیوں کی شناخت، ان کی جسمانی حالت، علاج معالجے کی تفصیلات یا یہ وضاحت شامل نہیں کہ وہ ایئرپورٹ کے کس حصے میں موجود تھے۔
سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے اس عزم کو دونوں ممالک کے دفاعی تعاون سے جوڑتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ ریاض ایئرپورٹ کے واقعے میں پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد اسلام آباد کی توجہ متاثرین کی معاونت کے ساتھ ساتھ خطے میں شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ پر بھی مرکوز ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے حملے کی مکمل تفصیلات، زخمیوں کی حالت اور ذمہ داری سے متعلق تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اہم ہوگی۔ پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے فراہم کی جانے والی مزید معلومات سے متاثرہ شہریوں کی صورت حال واضح ہو سکتی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر اسحاق ڈار سے منسوب فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے اور حملے کی ذمہ داری سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ تصاویر نمائندہ ہیں اور انہیں واقعے کی اصل تصاویر نہ سمجھا جائے۔
ماخذ: وزارتِ خارجہ اسلام آباد، پاکستانی سفارت خانہ ریاض / نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔