

محمود احمد, October11,2026
ریاض/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں حالیہ حملے کے بعد یمن کے حوثیوں کے خلاف امریکی مؤقف میں ممکنہ تبدیلی کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کو ’’ہولناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی حکام کو حملے کی اطلاع ملی ہے اور اس کے بعد آئندہ اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ تیزی سے فیصلے کرتا ہے، تاہم ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ کسی فوجی کارروائی کی منظوری دی جا چکی ہے یا اس کے لیے کوئی حتمی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ریاض پر حملے میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا۔ اس واقعے نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی تعاون اور یمن کے تنازع میں واشنگٹن کے ممکنہ کردار کے بارے میں بحث کو دوبارہ اہم بنا دیا ہے۔
بحیرۂ احمر کی تجارتی گزرگاہ پر بڑھتی توجہ
یمن کے حوثی ایران کے علاقائی اتحادیوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور انہیں اکثر ’’محورِ مزاحمت‘‘ کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں بحیرۂ احمر کی بحری گزرگاہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس راستے سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
فراہم کردہ متن کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ نہ ہونے کے باعث بحری سرگرمیاں مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکیں۔ اس صورت حال میں بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانے کے خدشات عالمی تجارتی راستوں اور خطے کی سلامتی کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کو بعض تجزیوں میں علاقائی دباؤ بڑھانے کے طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسے واقعات سے جہاز رانی کے اخراجات، ترسیل کے اوقات اور عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم ان حملوں کے پیچھے ایران کے کردار اور مقاصد سے متعلق ہر دعوے کو الگ شواہد کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔
امریکی انٹیلی جنس تعاون اور سعودی عرب کی معاونت
ستمبر کے آغاز میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکہ یمن کے تنازع میں براہِ راست فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ فراہم کردہ متن کے مطابق بعد میں امریکی حکام نے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی اور سعودی عرب میں فوجی ماہرین کی تعیناتی کی تصدیق بھی کی۔
ریاض ایئرپورٹ پر ہلاکت خیز حملے کے بعد امریکی حکومت کو اب اس سوال کا سامنا ہے کہ سعودی عرب کی مدد کس حد تک بڑھائی جائے۔ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا، لیکن دستیاب اطلاعات کے مطابق انہوں نے حتمی فیصلہ کرنے کا اعلان بھی نہیں کیا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات قریب ہونے کے باعث فوجی مداخلت کا فیصلہ سیاسی اور سفارتی اثرات بھی رکھتا ہے۔ تاہم انتخابات سے پہلے کارروائی نہ ہونے کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے واضح سرکاری اعلان ضروری ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اس رپورٹ میں امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو صدر ٹرمپ کے بیان سے منسوب کیا گیا ہے؛ اسے حتمی فیصلے یا منظور شدہ فوجی منصوبے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور ایران کے کردار سے متعلق تجزیاتی نکات کو بھی الگ شواہد کے بغیر حتمی حقائق نہیں سمجھنا چاہیے۔
ماخذ: وائٹ ہاؤس میڈیا سیل، بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیاں، واشنگٹن/ریاض نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔