Latest news

خیبر پختونخوا میں مواصلاتی خدمات متاثر، پشاور کے تعلیمی ادارے پیر کو بند رکھنے کا اعلان

Spread the love

منصور احمد,October11,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اتوار کو صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت متعدد اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ، پی ٹی سی ایل اور دیگر مواصلاتی خدمات متاثر رہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق رات گئے بعض علاقوں میں وائی فائی سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوئی، تاہم اتوار کی رات تک موبائل فون سروس اور سگنلز بند رہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر پشاور نے اعلان کیا ہے کہ پیر، 12 اکتوبر کو ضلع بھر کے سرکاری اور نجی اسکول، کالج اور جامعات بند رہیں گے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلامیہ جاری کیے جانے کے بعد طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو پیر کے روز کی سرگرمیوں کے حوالے سے انتظامات کرنا ہوں گے۔

موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کب متاثر ہوئی؟

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں ہفتے کی رات ہی شروع ہو گئی تھیں۔ اسی دوران موبائل فون سروس معطل ہوئی، جبکہ اتوار کی دوپہر کے بعد انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی۔ پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس بھی معطل رہنے کی اطلاع دی گئی۔

مواصلاتی خدمات کی بندش کے باعث شہریوں کو رابطوں اور آن لائن سہولتوں کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم فراہم کردہ متن میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خدمات کی معطلی کا باقاعدہ حکم کس ادارے نے جاری کیا تھا یا تمام اضلاع میں صورت حال یکساں تھی یا نہیں۔

پشاور کینٹ جانے والے راستوں پر رکاوٹیں

اتوار کی صبح شہریوں کو صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورت حال میں تبدیلی کی اطلاعات ملیں۔ اس کے بعد پشاور کینٹ کی جانب جانے والے متعدد راستوں پر کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جبکہ مختلف مقامات پر پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔

شہریوں کی بڑی تعداد ان رکاوٹوں کو دیکھنے کے لیے مختلف مقامات پر جمع ہوتی رہی۔ فردوس کے علاقے میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ انہیں دو روز قبل وہاں ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا اور اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ تعیناتی کب تک جاری رہے گی۔

شہر میں معمولات زندگی بڑی حد تک برقرار

رکاوٹوں اور مواصلاتی بندش کے باوجود پشاور کے دیگر حصوں میں معمولات زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق رہے۔ اتوار کے روز شہر میں ٹریفک اور تجارتی سرگرمیاں نسبتاً کم تھیں، تاہم فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق یہ صورت حال اتوار کے دن معمول کی سرگرمیوں سے بھی مطابقت رکھتی تھی۔

اتوار کو پشاور سمیت صوبے کے کسی حصے میں بڑے احتجاج یا مظاہروں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کی پشاور تنظیم نے پیر کے روز ہشت نگری میں احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔ اس اعلان کے بعد شہر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

آئندہ روز احتجاج، تعلیمی اداروں کی بندش اور مواصلاتی خدمات کی بحالی سے متعلق صورت حال شہریوں کے لیے اہم رہے گی۔ خصوصاً موبائل فون سروس کی بحالی اور بی آر ٹی کے دوبارہ آغاز کے بارے میں متعلقہ اداروں کی تازہ ہدایات اہم ہوں گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مواصلاتی خدمات کی بندش، بی آر ٹی کی معطلی اور تعلیمی اداروں کی بندش کے اعلامیے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ احتجاج کے اعلان اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق تازہ صورت حال میں تبدیلی ممکن ہے۔

ماخذ: ضلعی انتظامیہ پشاور، پی ٹی آئی میڈیا سیل، پشاور نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز پشاور۔