

کاشف عباسی ,October11,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت امن و امان اور سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی اداروں کی بندش، رکاوٹیں مرحلہ وار ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کرنے سے متعلق فیصلے کیے جانے کی اطلاع ہے۔
پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اکرام کھٹانہ کے مطابق حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں صوبائی صدر جنید اکبر، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی شامل ہیں۔ پارٹی نے ان مبینہ گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ صوبے کے عوامی مینڈیٹ کے خلاف ہے۔
اکرام کھٹانہ کے مطابق پارٹی کارکنوں کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کی ہدایات دی جا چکی ہیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان رہنماؤں کی گرفتاریوں، ان کی موجودہ جگہ یا حراست کی وجوہات کے بارے میں حکومتی مؤقف شامل نہیں۔ اس لیے ان گرفتاریوں کے دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
گورنر کی زیر صدارت سکیورٹی اجلاس
گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت اجلاس میں سکیورٹی اداروں اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکا میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید اور جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو ارشد علی خان سمیت دیگر متعلقہ افسران شامل تھے۔
اجلاس میں گورنر کو صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورت حال، امن و امان اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق موجودہ حالات کے پیش نظر صوبے بھر کے تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں پشاور میں نصب کنٹینرز کو مرحلہ وار ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، تاکہ شہریوں کی روزمرہ سرگرمیاں بتدریج معمول پر لائی جا سکیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے پولیس اور انتظامیہ کے کردار کو سراہا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات کے باوجود کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا اطمینان بخش ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کو ترجیح قرار دیتے ہوئے پولیس اور سی ٹی ڈی کی صلاحیتوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
18 ڈپٹی کمشنروں کے تبادلوں کی اطلاع
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا کی صوبائی بیوروکریسی اور پولیس میں بھی انتظامی تبدیلیوں کا عمل شروع ہونے کی اطلاع ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق مجموعی طور پر 18 ڈپٹی کمشنروں کے تبادلے کیے گئے ہیں اور انہیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تبادلے کی فہرست میں مردان سے واصف رحمان، صوابی سے طارق اللہ، لوئر چترال سے مقبول حسین، اپر دیر سے منظور آفریدی، شانگلہ سے عبداللہ شاہ، ملاکنڈ سے فیاض شیرپاؤ، سوات سے سلیم جان، اپر سوات سے سہیل احمد، بٹگرام سے محمد شعیب، مانسہرہ سے خالد اقبال، ایبٹ آباد سے سرمد سلیم، ہری پور سے اصلاح الدین، پشاور سے کیپٹن ثناء اللہ، چارسدہ سے فضل رحیم، بنوں سے محمد فہیم، لکی مروت سے حمیداللہ اور کرک سے اسد سرور کے نام شامل ہیں۔
فراہم کردہ فہرست میں 17 افسران کے نام درج ہیں، اگرچہ تبادلوں کی مجموعی تعداد 18 بتائی گئی ہے۔ اس لیے مکمل فہرست کی سرکاری اعلامیے سے تصدیق ضروری ہے۔
مختلف اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنروں کی تعیناتی
فراہم کردہ معلومات کے مطابق متعدد اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں شاہ سعود کو مردان، نصر اللہ کو صوابی، وسیم احمد کو ہری پور، احسان اللہ کو لوئر چترال، عارف خان کو ملاکنڈ، دلنواز خان کو اپر دیر، شہریار قمر کو اپر سوات، گوہر علی کو بٹگرام، یاسر علی کو مانسہرہ، میاں بہزاد عادل کو ایبٹ آباد، شاہد رفیق کو لکی مروت، منصور ارشد کو چارسدہ، آفاق وزیر کو پشاور، ضیاء الرحمان کو بنوں اور عدنان ابرار کو سوات کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیے جانے کی اطلاع ہے۔
ان تبدیلیوں سے صوبے کے مختلف اضلاع میں انتظامی ذمہ داریوں کی نئی تقسیم سامنے آتی ہے۔ تاہم تقرریوں اور تبادلوں کے نوٹیفکیشنز کی مکمل تفصیلات دستیاب نہ ہونے کے باعث ان احکامات کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری اعلامیوں سے ہونا ضروری ہے۔
سیاسی اور انتظامی صورت حال
خیبر پختونخوا میں مبینہ گرفتاریوں، تعلیمی اداروں کی بندش، مواصلاتی خدمات کی جزوی بحالی اور انتظامی تبادلوں کی اطلاعات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سیاسی اختلافات برقرار ہیں۔ پی ٹی آئی نے احتجاج کا عندیہ دیا ہے، جبکہ گورنر کی زیر صدارت اجلاس میں امن و امان اور معمولات زندگی کی بحالی پر توجہ دی گئی۔
آئندہ صورت حال کا انحصار سرکاری فیصلوں پر عمل درآمد، مواصلاتی خدمات کی بحالی اور سیاسی جماعتوں کے ردعمل پر ہوگا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی مبینہ گرفتاریوں کے بارے میں سرکاری مؤقف سامنے آنا بھی اہم ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اس خبر میں پی ٹی آئی کی جانب سے گرفتاریوں کے دعوے، گورنر کی زیر صدارت اجلاس کی تفصیلات اور انتظامی تبادلوں کی اطلاعات کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ گرفتاریوں اور سرکاری احکامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ متن سے ممکن نہیں۔ تبادلوں کی فہرست میں 18 افسران کا ذکر ہے، لیکن نام صرف 17 درج ہیں؛ اس فرق کی تصدیق ضروری ہے۔
ماخذ: پی ٹی آئی میڈیا سیل، گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا، محکمہِ اطلاعات و اسٹیبلشمنٹ پشاور / نیوز اینڈ نیوز پشاور۔