Latest news

اقرار الحسن این سی سی آئی اے کی تحویل میں نہیں، ادارے کی عدالت میں وضاحت

Spread the love

منصور احمد,October12,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوام راج تحریک کے سربراہ اور اینکر پرسن اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کی تردید کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے ان کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق، این سی سی آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن ان کی حراست میں نہیں ہیں۔ اس وضاحت کے بعد ان کی موجودہ موجودگی اور مبینہ طور پر گھر سے لے جائے جانے کے معاملے پر سوالات برقرار ہیں۔

بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ

اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق کے مطابق، ان کے مؤکل کی بازیابی کے لیے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ ایسی درخواست کے ذریعے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ کسی شخص کی موجودگی، تحویل اور حراست کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا جائے۔

تاہم، فراہم کردہ متن میں درخواست دائر کیے جانے یا عدالت کی جانب سے اس پر کوئی حکم جاری ہونے کی تصدیق موجود نہیں ہے۔

اہلیہ کا نامعلوم افراد کے گھر میں داخل ہونے کا دعویٰ

اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا تھا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً تین بجے نامعلوم افراد لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو اپنے ساتھ لے گئے۔

فرح اقرار کے مطابق، ان افراد میں خواتین بھی شامل تھیں اور انہوں نے بعض خواتین کے بازوؤں پر این سی سی آئی اے کے الفاظ لکھے ہوئے دیکھے تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں یہ دعوے بیان کیے تھے۔

فرح اقرار نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر گئیں، جہاں مبینہ طور پر انہیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آئیں۔

ان کے مطابق، بعد ازاں لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں پولیس کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ مؤقف یا ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق شامل نہیں ہے۔

معاملے میں کئی سوالات تاحال جواب طلب

این سی سی آئی اے کی جانب سے اقرار الحسن کو اپنی تحویل میں نہ ہونے کی وضاحت اور ان کی اہلیہ کی جانب سے گھر سے لے جائے جانے کے دعوے کے بعد معاملے کی شفاف تحقیقات اہم ہو گئی ہیں۔ ان کی موجودہ موجودگی، مبینہ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور متعلقہ حکام کے کردار سے متعلق امور کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ اس معاملے میں آئندہ قانونی پیش رفت کو اہم بنا دیتا ہے۔ عدالت میں درخواست دائر ہونے اور متعلقہ اداروں کے جوابات سامنے آنے کے بعد صورتِ حال مزید واضح ہو سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اقرار الحسن کو گھر سے لے جائے جانے کا بیان ان کی اہلیہ کا دعویٰ ہے، جبکہ این سی سی آئی اے نے انہیں اپنی تحویل میں ہونے کی تردید کی ہے۔ کسی ادارے یا فرد کے ملوث ہونے کو عدالتی یا مستند شواہد کے بغیر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس خبر میں درج دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ماخذ: جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت لاہور، قانونی ٹیم اقرار الحسن، لاہور نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز لاہور۔