

محمود احمد, October12,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے سنگین واقعات کے تناظر میں ملک کا ردعمل بھی اسی نوعیت کا ہونا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں اور دیگر آپریشنز کی معطلی میں توسیع کی گئی ہے۔
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں ورلڈ پیٹرولیم کانگریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی کا شعبہ ایک حقیقی امتحان سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں توانائی کی مسلسل فراہمی کے ساتھ اس کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
توانائی کے تحفظ کو بنیادی ضرورت قرار دے دیا
سعودی وزیر توانائی نے کہا کہ ان کے ملک نے بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی توانائی کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ انہوں نے توانائی کی دستیابی اور سلامتی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک اور صارفین کے لیے توانائی کی فراہمی اسی صورت ممکن ہے جب توانائی کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال اور توانائی کی تنصیبات، نقل و حمل اور سپلائی کے تسلسل سے متعلق خدشات اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ سعودی عرب عالمی توانائی منڈی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی بڑے سکیورٹی بحران کے ممکنہ اثرات عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد صورتحال
فراہم کردہ متن کے مطابق، ہفتے اور اتوار کو حوثیوں کی جانب سے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، تاہم ان اعداد و شمار اور حملے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں۔
ایئرپورٹ کے آپریشنز کی معطلی میں توسیع کی اطلاع بھی خطے میں فضائی سفر اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پروازوں کی بحالی، مسافروں کی حفاظت اور فضائی آپریشنز کے تسلسل سے متعلق فیصلے اہم ہو جاتے ہیں۔
عالمی توانائی منڈی کے لیے ممکنہ اثرات
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے بیان میں توانائی کی فراہمی اور سلامتی کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیا گیا۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تیل کی ترسیل، فضائی نقل و حمل اور توانائی کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم ان اثرات کی نوعیت اور شدت کا انحصار واقعات کی تصدیق شدہ تفصیلات اور صورتحال کے دورانیے پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سعودی وزیر توانائی کے بیان اور ایئرپورٹ پر حملوں سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ ہلاکتوں، زخمیوں کی تعداد، حملوں کی ذمہ داری اور ایئرپورٹ آپریشنز کی معطلی کی موجودہ صورتحال کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے ان تفصیلات کو مصدقہ سرکاری اعداد و شمار کے طور پر نہ لیا جائے۔
ماخذ: سعودی پریس ایجنسی (SPA)، ورلڈ پیٹرولیم کانگریس میڈیا سیل، ریاض نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز ریاض۔