Latest news

سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر بھارت سے شدید تحفظات، آبی حقوق کی خلاف ورزی جنگی اقدام سمجھی جائے گی: شہباز شریف

Spread the love

منصور احمد,October21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں اور اسلام آباد اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے آبی حقوق کی خلاف ورزی کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤقف ہر متعلقہ فورم پر پیش کرتا رہے گا۔

حکومتِ پاکستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو سے ملاقات کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے علاوہ خطے کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا کسی ملک کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پانی انسانوں کی زندگی، معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اسے تنازعات یا دھمکیوں کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر اپنا مؤقف مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بھی وہ پانی کو پاکستان کے لیے ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دے چکے ہیں۔

مالدیپ کے صدر سے ملاقات اور آبی حقوق پر گفتگو

شہباز شریف اور صدر محمد معیزو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وفود کی سطح پر مذاکرات کیے گئے۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانا اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے کو پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ دریاؤں کے پانی سے متعلق انتظامات کسی ایک فریق کی مرضی یا سیاسی فیصلے کے تابع نہیں ہونے چاہییں، بلکہ ایسے معاہدوں کی پابندی دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور ان لاکھوں افراد کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے جن کا روزگار اور معاشی تحفظ دریاؤں کے پانی سے وابستہ ہے۔

پاکستان کے لیے دریائی پانی زراعت، خوراک کی پیداوار، پینے کے پانی اور توانائی کے شعبوں میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ملک کی بڑی آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زرعی معیشت سے وابستہ ہے، جبکہ آبپاشی کا نظام دریاؤں اور ان سے منسلک نہروں پر انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے پانی کی دستیابی میں کسی بڑی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کو پاکستان میں معاشی اور انسانی تحفظ کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر پاکستان کا اعتراض

بھارت نے اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات میں پانی کی تقسیم کا معاملہ مزید نمایاں ہو گیا۔

سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور استعمال کے لیے ایک بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ 1960ء میں طے پایا تھا اور اس کے تحت دریائی نظام کے مختلف حصوں کے استعمال سے متعلق انتظامات وضع کیے گئے تھے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی شرائط دونوں فریقوں پر لاگو ہوتی ہیں اور کسی ایک ملک کو یک طرفہ طور پر ان ذمہ داریوں سے الگ ہونے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ شہباز شریف نے بھی اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ معاہدوں کی پابندی ضروری ہے اور مشترکہ وسائل کو دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب بھارت نے پہلگام حملے کے بعد اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر اختلاف برقرار ہے، جبکہ معاہدے کی حیثیت اور اس سے متعلق قانونی و سفارتی معاملات پر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ دی جاتی رہی ہے۔

پانی کو تنازع کے بجائے ترقی کا ذریعہ بنانے پر زور

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی انسانیت کے لیے ناگزیر ہے، خصوصاً ان ممالک کے لیے جو دریاؤں کے نچلے حصوں میں واقع ہیں اور جن کی ضروریات کا انحصار بالائی علاقوں سے آنے والے پانی پر ہوتا ہے۔

ان کے مطابق پانی کو دھمکیوں اور تنازعات کا ذریعہ بنانے کے بجائے خوشحالی، معاشی استحکام اور ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ آبی وسائل کے معاملات کو معاہدوں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

دریاؤں کے پانی میں کمی یا بہاؤ میں تبدیلی سے زرعی پیداوار، دیہی روزگار اور خوراک کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پانی کے انتظام میں غیر یقینی صورتِ حال سے آبپاشی کے نظام، بجلی کی پیداوار اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دریائی پانی ملک کے زرعی نظام اور غذائی تحفظ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تاہم پانی کی دستیابی پر اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے دریاؤں کے بہاؤ، موسمی حالات، ذخائر اور متعلقہ منصوبوں سے متعلق مستند اعدادوشمار کا جائزہ ضروری ہے۔

عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے اور اپنے آبی حقوق کے معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا رہے گا۔ ان کے مطابق معاہدوں کا احترام اور مشترکہ وسائل کا منصفانہ استعمال خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر سفارتی سطح پر مؤقف پیش کیے جانے کا مقصد معاہدے سے متعلق اختلافات کو بین الاقوامی اصولوں کے تحت اجاگر کرنا ہے۔ تاہم اس بیان میں کسی نئی سفارتی کارروائی، قانونی مقدمے یا بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کسی تازہ فیصلے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

آئندہ اس معاملے کی پیش رفت کا انحصار دونوں ممالک کے اقدامات، سفارتی رابطوں اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق قانونی و بین الاقوامی طریقۂ کار پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے پر پاکستان کے تحفظات کا اظہار کیا اور آبی حقوق کی خلاف ورزی کو جنگی اقدام قرار دینے کا انتباہ دیا۔ یہ پاکستان کی حکومت کا مؤقف ہے؛ معاہدے کی حیثیت اور اس سے متعلق اختلافات کے قانونی پہلوؤں کا تعین متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہوتا ہے۔

ماخذ: حکومتِ پاکستان، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا بیان، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب