

محمود احمد, October22,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء
ایران کے فوجی سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا لیا ہے اور وہ غیر روایتی جنگ سمیت مختلف ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں بحری سلامتی اور فوجی سرگرمیوں پر علاقائی کشیدگی کے باعث توجہ مرکوز ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل امیر حاتمی نے تہران میں فوجی ڈرون تیار کرنے والے ایک مرکز کے دورے کے دوران کہا کہ ایرانی مسلح افواج، بالخصوص فوج، کو ملکی سلامتی یقینی بنانے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسی مقصد کے تحت فوج کو مختلف حالات کے لیے مسلسل تیار رہنا چاہیے۔
جنرل حاتمی نے کہا کہ ایرانی فوج نے غیر متناسب جنگ کے لیے درکار سازوسامان اور افرادی قوت تیار کر رکھی ہے اور اس کی صلاحیت پہلے کے مقابلے میں مضبوط ہوئی ہے۔ غیر متناسب جنگ سے مراد ایسی صورتِ حال ہے جس میں فریقین کی فوجی طاقت، وسائل یا جنگی طریقوں میں نمایاں فرق ہو اور کم وسائل رکھنے والا فریق مختلف حکمتِ عملیوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مقابلہ کرنے کی کوشش کرے۔
ڈرون پروگرام کی تیاری اور تربیت پر زور
ایرانی فوجی سربراہ کے مطابق فوج ڈرونز کی تیاری، تقسیم، دیکھ بھال اور ان کے استعمال سے متعلق تربیت پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید جنگ میں بغیر پائلٹ نظاموں کی اہمیت بڑھ گئی ہے، جس میں فضائی ڈرونز کے علاوہ بغیر عملے کے بحری جہاز اور چھوٹے مائیکرو ڈرونز بھی شامل ہیں۔
ڈرونز کو نگرانی، معلومات جمع کرنے اور بعض فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے ذریعے ایسے علاقوں میں بھی سرگرمیاں انجام دی جا سکتی ہیں جہاں انسانی عملے کی موجودگی خطرناک ہو۔ تاہم ان نظاموں کی عملی افادیت ان کی تکنیکی صلاحیت، رابطہ نظام، تربیت اور مخالف فریق کے دفاعی انتظامات پر منحصر ہوتی ہے۔
جنرل حاتمی کے مطابق ایرانی فوج کا ڈرون پروگرام وزارتِ دفاع کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس پروگرام میں جامعات، تکنیکی ماہرین اور علم پر مبنی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیق، تیاری اور تربیت کے شعبوں میں باہمی تعاون سے فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایرانی بیان میں ڈرونز کی تعداد، ان کی اقسام، عملی کارکردگی یا جدید نظاموں کی درست تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے فوجی سربراہ کے اس دعوے کہ ایرانی فوج کی صلاحیتیں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں، کو ایران کا سرکاری مؤقف سمجھنا چاہیے، جس کی آزادانہ جانچ کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بحری موجودگی کا ذکر
جنرل امیر حاتمی نے ایرانی بحریہ کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بحری افواج سمندر میں اور آبنائے ہرمز کے مشرقی ساحلی علاقوں میں فعال موجودگی رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق اس علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی دشمن جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بیان آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی سطح پر خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ اس علاقے میں فوجی کشیدگی یا جہاز رانی میں رکاوٹ سے بین الاقوامی تجارت، توانائی کی منڈی اور بحری سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔
ایرانی فوجی سربراہ نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں بحری آمدورفت سے متعلق اپنے ضوابط پر عمل درآمد کے لیے بحری بارودی سرنگوں اور خودکار کنٹرول نظاموں کا استعمال کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان نظاموں کی تعداد، تعیناتی یا موجودہ عملی صورتِ حال کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔
علاقائی سلامتی پر ممکنہ اثرات
ایران کی جانب سے ڈرون صلاحیتوں میں اضافے اور بحری راستوں کے تحفظ سے متعلق بیانات خطے میں فوجی تیاریوں پر جاری بحث کا حصہ ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران سمیت متعدد ممالک کے سکیورٹی مفادات وابستہ ہیں، جبکہ اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت عالمی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔
ایسے بیانات کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے صرف فوجی دعوؤں کے بجائے عملی سرگرمیوں، متعلقہ ممالک کے ردعمل اور بحری آمدورفت کی صورتِ حال کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ فی الحال جنرل حاتمی کے بیان میں بنیادی زور ڈرون ٹیکنالوجی، غیر روایتی جنگ کی تیاری اور ایران کی بحری موجودگی پر ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ڈرون صلاحیتوں میں اضافے اور غیر روایتی جنگ کے لیے تیاری سے متعلق معلومات ایرانی فوجی سربراہ کے بیان اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ نظاموں کی تکنیکی تفصیلات اور دیگر قابلِ اعتماد شواہد درکار ہوں گے۔
ماخذ: ارنا، ایرانی فوجی سربراہ کا بیان